menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pak Turkiye Sharakat Dari Ke Daway Aur Haqaiq

29 0
08.07.2026

پاک ترکیہ شراکت داری کے دعوے اور حقائق

خلیجی جنگ کے بعد میاں شہباز شریف کا دورہ ترکیہ بہت اہم ہے اِس دورے کی بظاہر اہم وجہ دونوں ممالک کا عالمی امور پر ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا اور تعاون کو مزید شعبوں تک وسیع کرنا ہے۔ پاک ترکیہ شراکت داری بظاہر روایتی دوستی تک محدود نہیں رہی بلکہ ایسی جامع تزویراتی ہے جس میں اقتصادی سے لیکر دفاعی تعاون شامل ہے مگر دونوں ممالک کے تجارتی حجم پر نگاہ دوڑائیں تو یہ حقیقی صلاحیت سے بہت کم نظر آتا ہے۔ اسی لیے جب دونوں ممالک کی قیادت قریبی تعاون کی بات کرتی ہے تو یقین نہیں آتا ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک میں تعاون صرف باتوں تک تو محدود ہے۔ عملی طور پر آثار و قرائن سے نفی ہوتی ہے۔ قربت کے دعوے حقائق سے یکسر برعکس ہیں مگر یہ نہیں کہ تعاون کے امکانات ہی نہیں اگر دونوں ممالک کی قیادت شراکت داری کو وسیع کرنے کے لیے سنجیدہ فیصلے اور اقدامات کرے تو حقیقت میں بھی تعاون فروغ پا سکتا ہے جس سے نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ معاشی بہتری بھی یقینی ہے۔

پاک ترکیہ شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کیا ہے جو اِس وقت ڈیڑھ ارب ڈالر تک محدود ہے۔ یہ نہیں کہ دونوں ممالک میں تجارتی حجم بڑھانے کی گنجائش نہیں بلکہ پانچ ارب ڈالر سے زائد کی نمو موجود ہے لیکن بڑی وجہ ترکیہ کا پاکستانی برآمدات سے دلچسپی نہ رکھنا ہے۔ موجودہ تجارتی توازن مکمل طور پر ترکیہ کے حق میں ہے اور اِس میں پاکستان کا حصہ تہائی سے بھی کم ہے۔ اسی........

© Daily Urdu