Pak Afghan Kasheedgi Muashi Sargarmion Mein Rukawat
پاک افغان کشیدگی معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ
پاک افغان کشیدگی معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ ہے مگر اِس کا واحد ذمہ دار پاکستان نہیں افغانستان ہے لہذا کشیدگی کا خاتمہ بھی طالبان کی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ دہشت گردوں کی ایسی محفوظ پناہ گاہ ہے جہاں سے سرحد پار کاروائیاں ہوتی ہیں۔ طالبان کی طرح افغان مہاجرین بھی امن دشمن عناصرکے سہولت کار ہیں۔ کوئی بھی ملک اپنے شہریوں کی جان و مال سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دے سکتا اسی لیے ہمسایہ ممالک طالبان اور افغان مہاجرین کوشک کی نظر سے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے خودکو تسلیم کرانے کی طالبان کاوشیں مسلسل ناکامی سے دوچار ہیں اور افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے میں تیزی آنے لگی ہے۔ ایسے حالات میں جب کمزور معیشت کی وجہ سے افغانستان میں پہلے ہی کاروباری اور روزگار کے مواقع محدود ہیں مزید لاکھوں شہریوں کا بوجھ اُسے عدمِ استحکام سے دوچار کرسکتا ہے۔ اِس کا واحد حل یہ ہے کہ طالبان سنجیدگی سے دہشت گرد اور شدت پسند گروپوں کا خاتمہ کریں تاکہ ہمسایہ ممالک کا اعتماد بحال ہو اور خطے میں امن ہونے سے کاروباری اور روزگارکے مواقع پیدا ہوں۔
روس کے بعد امریکہ و نیٹو افواج کے انخلا میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ طالبان کو اقتدار میں لانے میں بھی پاکستانی سہولت کاری عیاں حقیقت ہے لیکن اقتدار میں آکر طالبان نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دولت کے لیے رشتے، تعلقات اور احسانات بھول جانے پر یقین رکھتے ہیں حالانکہ پاکستان اُن کاایسا ہمسایہ ہے جو اُن کی رگ و پے سے واقف ہے۔ پاکستانی علاقوں میں سرحد پار سے کاروائیاں بدترین احسان فراموشی ہے۔ عالمی طاقتوں کے قبرستان کی کہانیوں میں صداقت محض اتنی ہے کہ افریقی ممالک کے........
