menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Makkah Difai Muahida

51 0
12.08.2026

سات اگست 2026کو مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدہ کے مطابق کسی ایک رُکن پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ اِس معاہدے کو خطے میں دفاع اور عسکری تعاون کی بنیاد تصور کیا جارہا ہے اگرچہ اِس کے مقاصد اور اثرات پر مختلف آراء بھی سامنے آئی ہیں لیکن یہ خطے کے منظر نامے کی اہم ترین پیش رفت ہے۔ سعودی عرب کی دولت، ترکیہ کی دفاعی صنعت جبکہ پاکستان کی بڑی اور طاقتور فوج جسے جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے دنیا میں منفرد اہمیت حاصل ہے اگر رُکن ممالک فوجی، اقتصادی، سائنسی اور عسکری میدانوں میں تعاون کرتے ہیں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ نہ صرف ایک وسیع تر اسلامی نیٹو کی راہ ہموار جائے گی بلکہ اسلامی ممالک سفارتی، عسکری اور معاشی فوائد سے ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہو جائیں گے کیونکہ تینوں ممالک کی چاہے سرحدیں نہیں ملتیں مگر سوچ اور مقاصد ایک ہیں۔ امریکہ، ایران، اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں یہ معاہدہ تبدیلیوں کی بنیاد ثابت ہوسکتا ہے۔

اب عالمی سیاست کے تقاضے بدل چکے ہیں جس کے لیے اتحاد، تدبر، حکمت اور دوراندیشی کی ضرورت ہے قوموں کی آزادی، خودمختاری اور وقار صرف مضبوط معیشت تک ہی محدودنہیں بلکہ موئثر دفاعی صلاحیت اور اتحاد بھی ناگزیر ہے۔ اِس وقت مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور علاقائی تنازعات ٹکراؤ کی طرف جارہے ہیں جس میں بیرونی طاقتوں کی رقابت کا بھی عمل دخل ہے اِن حالات میں مکہ دفاعی معاہدہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے اگر اِس معاہدے کو صرف سہ ملکی عسکری تعاون کا معاہدہ کہیں تو یہ اِس کی اہمیت کم کرنے کے مترادف ہوگا کیونکہ اِس کے اثرات صرف خطے تک........

© Daily Urdu