menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bangladesh Ki Nai Kharja Policy

47 0
29.08.2026

بنگلہ دیش کی نئی خارجہ پالیسی

اگر طارق رحمان حکومت بنگلہ دیش اول کی بنیاد پر ایک متوازن اور فعال خارجہ پالیسی اختیار کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ڈھاکہ جنوبی ایشیا میں محض بھارت اور چین کے درمیان مقابلے کامیدان ہی نہیں رہے گا بلکہ خود ایک اہم علاقائی طاقت کے طورپر جگہ بناسکتا ہے تین اطراف سے بھارت میں گھرے اِس ملک کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیں تو 1971 سے ہی بھارت کو اولیت حاصل رہی لیکن اگست 2024 میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجدحکومت کے خاتمے اور اِ ن کے ملک سے فرار نے بہت کچھ بدل دیا ہے جسے کچھ حلقے بھارت مخالف ہونا اور چین کے کیمپ میں جانا کہتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کی سیاست میں بنگلہ دیش تبدیلی کے مراحل میں ہے فروری 2026 کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی کوشاندار کامیابی حاصل ہوئی اور طارق رحمان وزیراعظم بنے جو ملک کی داخلی سیاست کے ساتھ خارجہ پالیسی کا رُخ تبدیل کرنا چاہتے ہیں یہ ملکی مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ بھارت مخالف عوامی جذبات کوٹھنڈاکرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ عوام یہ تاثر لیں کہ منتخب حکومت کو آنے والی تبدیلی کا احترام ہے۔

نئی پیش رفت سابق صدرمحمد شہاب الدین کا استعفیٰ اور بی این پی کے دیرینہ سیکرٹری جنرل فخر الاسلام عالمگیر کا صدر منتخب ہونا ہے مستعفی صدر شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا معتمد خیال کیا جاتا تھا اب جبکہ وزیر اعظم طارق رحمان اور صدرمرزا فخر الا سلام عالمگیر دونوں کا تعلق بی این پی سے ہے تو حکومت کو داخلی اور خارجی معاملات کے فیصلے کرنے میں سہولت ملے گی کیونکہ یہ تبدیلی........

© Daily Urdu