Aman Aur Safarat
بداعتمادی ہی طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنے جیسی کوششوں کی بنیاد بنتی ہے جو معاشی مفادات اور سیاسی رقابتوں کا موجب ہوتی ہیں لہذا کہہ سکتے ہیں کہ جنگوں کا آغاز اچانک نہیں ہوتا جب تک توپوں کی گُھن گرج کے لیے باقاعدہ ماحول نہ بنایا جائے البتہ سفارت کاری کی میزیں سجی رہیں توامن قائم رہتا ہے۔ مزاکرات کی زبان خاموش ہو تو بارود کو بولنے کا موقعہ ملتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی تصادم اسی تلخ حقیقت کی طرف اِشارہ ہے یہ تنازع صرف دو ریاستوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سارے مشرقِ وسطیٰ پر اثر انداز ہو رہا ہے عالمی معیشت و امن کے لیے امتحان بن چکا ہے اِس کا حل صرف یہ ہے کہ جنگ کی بجائے سفارتکاری کو ترجیح بنایا جائے۔
امریکہ و ایران کے تعلقات ہمیشہ سے خراب نہیں تھے 1979کے ایرانی انقلاب سے پہلے دونوں ایک دوسرے کے قریبی اور اتحادی تھے مگر انقلاب نے صورتحال کو یکسر بدل دیا سفارتی تعلقات منقطع اور پابندیوں کے طویل سلسلے کا آغاز ہوا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر اپنے مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگاتے رہے یوں خلیج فارس میں کشیدگی حد سے بڑھتی گئی۔ گزشتہ کئی عشروں میں یہ کشیدگی معاشی پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہونے کے ساتھ پراکسی لڑائی اور محدود فوجی کاروائی کا باعث بنتی رہی مگر حالیہ تصادم نے ساری دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلا تو نتائج خطے تک محدود نہیں رہیں گے کیونکہ مزید ممالک ملوث ہونے لگے ہیں جس سے ایک بڑا عالمی معاشی بحران جنم لے سکتا ہے اِس کا حل صرف سفارتکاری سے تلاش کیاجا سکتا........
