Siasi Adam Istehkam Ke Manfi Aur Nachte Nataij
سیاسی عدم استحکام کے منفی اور ناچتے نتائج
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے خطاب کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا "ماضی میں میثاق معیشت کی دعوت دی لیکن اسے حقارت سے ٹھکرا دیا گیا انہوں نے اپوزیشن کو ایک بار پھر میثاق جمہوریت اور بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا سب ہمارے بھائی ہیں کوئی لڑائی نہیں آئیں سب ملکر کر بیٹھیں سیاست اپنی اپنی لیکن پاکستان ہے تو ہم ہیں"۔
اس سے قبل محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا "میں ہاتھ جوڑ کر وزیراعظم سے پارلیمان کو مضبوط کرنے کی اپیل کرتا ہوں شہباز شریف ایک میمورنڈم لکھیں کوئی پارٹی کسی کی ٹانگ نہیں کھینچے گی جو پارٹی جیتے گی اس کو مینڈیٹ دینگے بانی پی ٹی آئی کے پاس جیل میں میں لے کر جاوں گا ان کا کہنا تھا آئین احتجاج کی اجازت دیتا ہے مظاہرین پر گولیاں چلانا قابل مذمت ہے غلطیوں کی اصلاح ہوسکتی ہے آئیں بیٹھیں محروم علاقوں کے عوام کے تحفظات دور کرنا ہوں گے"۔
تقاریر کی حد تک قائد حزب اختلاف اور وزیراعظم کی تقاریر درست بلکہ سیاسی سوچ کا اظہار ہیں۔ اصل مسئلہ مل بیٹھنے اور بات چیت کا ہے۔ پاکستانی سیاست ہمیشہ کی طرح آج بھی دو انتہاوں میں بٹی ہوئی ہے ہر دو جانب عدم برداشت اور نفرت کا دور دورہ ہے یہ عدم برداشت اور نفرت نمائشی تقاریر سے ختم ہونے کے نہیں اس کیلئے گروہی عصبیت اور شخصی انا کی قربانی دینا ہوگی۔
اپریل 2022 سے قبل موجودہ حکمران اتحاد کی جماعتیں ملک دشمن فوج مخالف قوتوں کے ہاتھوں کھیلنے والی چور لٹیری جماعتیں تھیں تب اس وقت کی حکمران جماعت تحریک انصاف کی فوج سے محبت کا زم زم بہہ رہا تھا اور حب الوطنی نصف النہار پہ تھی۔
اپریل 2022 کے بعد سے تحریک انصاف ملک دشمن فوج مخالف قوتوں کے ہاتھوں کھیلنے والی جماعت اور چور لٹیری ہے پی ٹی آئی کی ایک خاتون رکن قومی اسمبلی سمیت متعدد رہنما کہتے آئے ہیں "عمران خان نہیں تو پاکستان نہیں" سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعصبات نفرتیں اور سوچ ختم کئے بغیر سیاسی ایکتا کا حصول ممکن ہے؟
ہماری رائے میں آگے بڑھنے سے قبل اس........
