menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qalam Mazdoor Aur Nasab Shuda Log

23 0
24.04.2026

قلم مزدور اور نصب شدہ "لوگ"

سوشل میڈیا پر گھمسان کے "رن" پڑے ہوئے ہیں کشتوں کے پشتے اور پشتوں کے کشتے لگائے جارہے ہیں ایران امریکہ جنگ بندی کا رقص ہے سوشل میڈیا کا توحیدی گروپ لوگوں کو ان کے آبائی مذاہب کے طعنے مار رہا ہے نصب شدہ سینئر صحافیوں کی درگت بن رہی ہے۔

پیر سید محسن نقوی کے ایک چینل پر صبح کی نشریات کے ایک پروگرام کی اینکرہ کی تیسری شادی اور شوہر کے کاندھوں پر بھرے پروگرام میں اٹھالینے پر تنقید کے گھوڑے دوڑائے گئے تو اینکرہ نے اسے گھریلو مئوومنٹ قرار دیتے ہوئے معافی مانگ لی دو دن بعد لندن کی سڑکوں پر ایسی ہی گھریلو مئوومنٹ کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر چڑھا دی۔

یہاں جو بِکتا ہے دکھتا ہے دیکھایا جاتا ہے دیکھنے والے تنقید کا نمک چھڑکتے ہوئے منہ میں پانی بھر کے دیکھتے ہیں۔ ہم (چار اور کے سارے لوگ) کیا دیکھنا چاہتے ہیں یہی جو سو کے لگ بھگ چھوٹے بڑے چینلز پر دیکھایا جارہا ہے۔ ویسے تو اب جس کے پاس کیمرے والا موبائل ہے وہ صحافی یوٹیوبر صلاح کار ہے جو اردو کی بورڈ کا استعمال کرلیتا ہے وہ 21 ویں گریڈ کا دانشور مفتی ہے۔ آپ یوں سمجھ لیجے ان دنوں صحافیوں یوٹیوبرز دانشوروں اور مفتیوں کے "ہڑ" (سیلاب) آئے ہوئے ہیں شور ایسا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔

ہمارا سماج ارتقا کی جانب گامزن ہے کہ تنزلی کی سمت یہ سوال ہر دیوار پہ لکھا ہے اور ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ میری دیوار نہیں۔

دیوار و در کے رولے ہیں ان رولوں کے بیچوں بیچ سکینڈل کوئین اداکارہ میرا ایک نصب شدہ سینئر صحافی و اینکر اینڈ یوٹیوبر کے مقابلے میں نیک پروین لگنے لگیں۔ اس سارے معاملے پر نصب شدہ نے جو وضاحتیں دیں اُس پہ ایک قدیم ضرب المثل صادق آئی "نانی اماں نے کھسم کیا برا کیا چھوڑ دیا اور برا کیا"۔

بالائی سطور میں عرض کرچکا کہ یہاں جو بِکتا ہے وہی دکھتا دیکھایا........

© Daily Urdu