menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iran America Jang Se Sasti Jangon Tak

26 0
18.07.2026

ایران امریکہ جنگ سے سستی جگتوں تک

اس امر پر دوآرا نہیں کے ایران و امریکا کے درمیان ہوا اسلام آباد ثالثی معاہدہ دھول ہوچکا اور میدانِ جنگ پھر گرما گرم ہے۔ امریکی صدر اور ایرانی رہنماوں کے درمیان دھمکیوں بھرے بیانات کا مقابلہ جاری ہے۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران امریکہ نے ایران پر تباہ کن حملے کئے جواباً ایرانیوں نے خطے کے عرب ملکوں میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔ گزشتہ سے پیوستہ روز امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے ساتھ ثالثی معاہدہ کے بعد محدود پیمانہ پر اٹھائی گئی پابندیاں دوبارہ نافذ کردیں اس کے ساتھ 13 کروڑ ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثوں بھی منجمند کردیئے۔

بدھ کو ہی چاہ بہار، فارس و ہرمز کے قریب کئی ساحلی علاقوں اور بامپور کی فوجی چھاونی پر امریکی حملوں سے 30 شہری 7 فوجی جاں بحق اور 300 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ادھر اسلام آباد ثالثی معاہدے کے حوالے سوشل میں پر ایرانی وزیرخارجہ سے منسوب ایک جعلی پوسٹ سے حکومت مخالف حلقوں کا جی بہلانا اور اس گھٹیا پوست کو تبرکاً آگے بڑھانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن موجودہ نظام میں دوصوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں سمیت صدر مملکت کے منصب کے علاوہ دومزید چار مزید آئینی عہدے رکھنے والی پیپلز پارٹی کے باقی ماندہ دستیاب جیالے بھی سوشل میڈیا پر ات اٹھائے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب جے یو آئی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمٰن کی ایک حالیہ تقریر کے بعد دیسی انقلابیوں کی امیدیں "روشن" ہوگئی ہیں جبکہ مسلم لیگ ن و ہمنوا اس تقریر پر "چاروں ہاتھوں" سے ٹوٹ پڑے ہیں۔ وسطی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں مولانا کو ایک ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے اسی تقریر کے حوالے سے طلب بھی کرلیا ہے لاہور میں اندراج مقدمہ کے لئے ایک عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔

ستم یہ ہے کہ مولانا کی اس تقریر کی مذمت تحریک انصاف بھی کررہی ہے وہی تحریک انصاف جس نے پچھلے چاربرسوں سے فورسز کے شہدا اور ان کے خانوادوں کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم چلائی یہاں تک کہ گزشتہ دنوں دریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک خاندان کے جاں بحق ہونے پر مبارکباد کی پوسٹیں اس لئے لگائیں کہ جاں بحق ہونے والے خاندان کا سربراہ ریٹائرڈ فوجی افسر تھا حد ہے دورنگیوں کی اور بے حد ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بوقت ضرورت اخلاقیات پر جوتا شماری کرنے والے اپنے سیاسی مخالف کی کسی بات کو پکڑ کر ناصح بن جاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کو لے کر یہی کچھ ہورہا ہے چند نابغوں کا یہ دعویٰ ہے کہ مولانا کی قصور میں کی گئی حالیہ تقریر سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اس مشن زیرو زیرو سیون کا حصہ ہے جو تحریک انصاف کی مقبولیت کا کمبل چرانے کیلئے ہے۔ بعض تجزیہ کار اس تقریر کو پاک افغان کشیدگی سے........

© Daily Urdu