Friend Of Court Ki Report Aur Imran Khan Ko Lahaq Bimari
فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ اور عمران خان کو لاحق بیماری
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان آنکھ کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر فرینڈ آف کورٹ مقرر ہوئے ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے لگ بھگ ساڑھے تین گھنٹے جیل میں ان سے ملاقات کے بعد اپنی مفصل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی۔ ایک وکیل (یہ صاحب چند مقدمات میں عمران خان کے وکیل بھی ہیں) نے اپنی رپورٹ میں لکھا عمران خان کی آنکھ کی بینائی پچاسی فیصد تک متاثر ہوئی ہے، سلمان صفدر ماہر امراضِ چشم بھی ہیں یہ غالباً انہیں فرینڈ آف کورٹ مقرر کرنے والے چیف جسٹس آف پاکستان کے علم میں بھی نہیں ہوگا۔
اس رپورٹ کی بنیاد پر بیانیہ بنا اور اب تحریک انصاف کی حکومت والے صوبے خیبر پختونخوا میں کارکنوں کی ٹولیاں سڑکوں پر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کو پنجاب اور سرائیکی وسیب سے ملانے والی 6 بڑی شاہراہیں بند کردی گئی ہیں۔
اسلام آباد میں ایک دھرنا پارلیمینٹ کی عمارت کی حدود میں اور دوسرا خیبرپختونخوا ہاوس کے باہر جاری ہے۔ دونوں جگہ مشکل سے دو اڑھائی درجن ارکان اسمبلی و سینیٹ شریک ہیں۔ پنجاب اور سندھ سے تحریک انصاف کے اراکین کہاں "غائب ہوگئے" پتہ نہیں یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا مجاہد انصافیز نے "ات" اٹھائی ہوئی ہے۔
کیا یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ 2021 میں اُس وقت کے وزیراعظم نے اپنے سیاسی مخالفین کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا "یہ عجیب لوگ ہیں جیل جاتے ہیں تو بیمار ہوجاتے ہیں" یا اس سے قبل 2019 میں امریکہ میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا "ہم نے تمہیں جیلوں میں ڈالا کیونکہ تم کرپٹ ہو اب گھر کا کھانا مانگتے ہو اور سہولتیں کیا باقی تمام قیدیوں کو یہ سہولتیں حاصل ہیں؟"
اسی امریکی جلسے میں انہوں نے منہ پر ہاتھ پھیر کر کچھ اور بھی کہا تھا تب ممکن ہے انہیں یہ یاد نہ ہوکہ اقتدار دائمی طور پر کسی کی ملکیت نہیں ہوتا۔
اب پہلا بنیادی سوال یہ ہے کہ ان (عمران خان) کی ایک آنکھ کی بینائی 85 فیصد تک متاثر........
