menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Controlled Tabqati Jamhuriat Ka Faiz e Aam

28 0
28.08.2026

کنٹرولڈ طبقاتی جمہوریت کا "فیضِ عام"

سانحہ پمز اسپتال کی ابتدائی رپورٹ پر کوئی بھی یقین کرنے کو تیار نہیں بالکل اسی طرح جیسے بعض دیگر افسوسناک واقعات پر (ان میں پھلجڑی برانڈ واقعات بھی شامل ہیں) کیوں؟ یہ کیوں بہت اہم ہے اس کے ساتھ یہ عرض کردیا جانا ازبس ضروری ہے کہ پمز اسپتال سانحہ کے حوالے سے ارب ہا روپے کے سالانہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اشتہارات ڈکارنے اور گٹر سیاست کو آزادی صحافت بناکر پیش کرنے والے میڈیا ہاوسز کیلئے بھی عوام میں بداعتمادی مزید بڑھ گئی، کیوں؟ یہ پہلی کیوں کی طرح قابل غور ہے، پمز اسپتال سانحہ میں 14 معصوم بچے جان سے گئے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گردش کرتی خبروں کو " واٹ از دہ ربش " کہہ کر بابو شاہی آگے بڑھ سکتی ہے مگر سوشل میڈیا کے ذریعے ہی بین کرتی ماوں اور سوگوار خاندانوں کے " نالے " کیسے نظر انداز ہو پائیں گے؟ حکومتِ وقت پمز اسپتال انتظامیہ اور گٹر سیاست کھیلنے والے میڈیا ہاوسز کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے؟

پمز سانحہ کی ابتدائی رپورٹ بارے بالائی سطور میں عرض کیا کہ " کوئی بھی اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں اس بے اعتباری کا ایک مظاہرہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی پمز اسپتال میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ہوئی گفتگو اور سوالات سے بنے ماوحول سے دیکھنے میں آیا لیکن کیا اس سے کوئی فرق پڑے گا اصلاح احوال کیلئے سوچا جائے گا؟ ہمارا جواب نفی میں ہے، ایسا نہیں کہ سانحہ پمز کی ابتدائی رپورٹ بے اعتباری کا شکار ہے آپ 14 اگست 1947 کے بعد سے آج تک کے سانحات کو ایک ایک کرکے دیکھ لیجے اور ان کی رپورٹس کو بھی ایک بھی پبلش ہوئی رپورٹ ایسی نہیں جس بارے آپ کہہ سکیں کہ اس پر رائے عامہ نے اعتبار کیا، یہ اعتباری راتوں رات ہرگز پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کی تاریخ بھی ملکی تاریخ کے ماہ و سال جتنی ہے، بے اعتباری کے جنم لینے........

© Daily Urdu