Maa Ko To Bakhsh Do
ایسا ممکن ہے کہ انسان کو کسی وقتی اشتعال سے غصہ آ جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی چیز طویل عرصے سے کسی کو پریشان کر رہی ہو اور وہ اُسے بوجوہ سہتا رہے لیکن ایک خاص موقعے پر اُس کا صبر جواب دے جائے اور وہ غصے سے پھٹ پڑے۔ اِن دونوں کے علاوہ بھی ایک صورت ہے۔ وہ یہ ہے کوئی شخص بدنیتی سے اور اپنے مذموم عزائم پورا کرنے کے لیے کسی کے جذبات کو برانگیختہ کرے، اُس کی دکھتی رگ پر پاؤں رکھ کر اُس کو طیش دلائے اور جب دوسرا شخص جذبات میں اندھا ہو کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے اور اچھے برے کی تمیز کھو دے تو اُس سے اپنے مطلب کے کام نکلوا لے۔
میرے مطالعے کی حد تک آج پاکستان میں اِن میں سے تیسرا کام انتہائی شدت اور کامیابی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ قومیت پرست اور (شاید اُن سے ڈرے ہوئے) سیاستدان نئے صوبوں کے معاملے پر لوگوں کے جذبات کو بے قابو کر دینے کی حد تک ابھار رہے ہیں۔ اِن دونوں قسموں کے لوگوں نے ماحول اِتنا اشتعال انگیز کر دیا ہے کہ دلیل کے ساتھ گفتگو ہو ہی نہیں سکتی اور اِس قبیح کام کے لیے جس ہستی کو اِنھوں نے دکھتی رگ کے طور استعمال کیا ہے وہ ہے "ماں"۔
لوگوں کو جذبات میں اندھا کرنے کے لیے ماں کی علامت کا انتخاب ہی اِن کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ میں اپنے مطالعے کی حد تک دعویٰ کرسکتا ہوں کہ برِصغیر میں ہمیشہ سے ماں کی عزت اور تکریم دنیا کی ہر دوسری چیز سے زیادہ کی جاتی ہے۔ بعض کے نزدیک تو ماں کی تکریم دینی علامتوں کے لیے مخصوص تکریم کی طرح کی جاتی ہے۔ اُسے دیوی تک بنا دیا جاتا ہے جس کی پوجا کی جاتی ہے۔
اِس لیے اگر کسی چیز کو ماں سے تشبیہ دے دی جائے تو اُس کے حوالے سے (بعض اوقات بلا جواز) اندھی، مارنے مرنے والی عقیدت اور تکریم شروع ہو جاتی ہے اور دلیل و منطق سب غیر موثر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر گائے ایک مفید مگر عام جانور ہے۔ جب اُسے ایک دفعہ "گاؤ ماتا" کہہ دیا تو اِس کے بعد گلی میں گھومنے والی کسی ایسی گائے کو جو کسی کی ملکیت نہ بھی ہو، ہاتھ لگانے پر بھی فسادات پھوٹ پڑ سکتے ہیں اور اُس کا گوشت پاس رکھنے کے شبہے میں لوگوں کی mob lynching کی جا سکتی ہے۔
اِسی طرح دنیا میں ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے وہ محض اتفاقیہ طور پر کسی لسانی گروپ میں پیدا ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ پیدا ہونے سے پہلے کے کارناموں کی وجہ سے وہ اپنے لسانی گروپ میں پیدا کیا جائے، یا اُس نے کمانڈوز میں شامل ہونے والے کڑے داخلہ ٹیسٹ جیسا کوئی امتحان پاس کیا ہو، یا فرشتوں کو رشوت دے کر، یا سفارش کی بنیاد پر اُسے کسی خاص لسانی گروپ میں پیدا کیا جائے۔ یہ بھی نہیں ہوتا کہ جو لوگ اُس کے لسانی گروپ میں پیدا نہیں ہوئے ہیں اُنھیں پیدا ہونے سے پہلے کے گناہوں کی وجہ سے کسی لسانی گروپ میں پیدا ہونے کی سعادت سے محروم کر دیا گیا ہو، یا اُسے مناسب سفارش نہ مل پائی ہو۔
تو اگر اتفاقیہ طور پر پیدا ہونے والے گروپ کی زبان کو "مادری زبان"، "ماتر بھاشا" یا "ماں بولی" کہہ دیا جائے، تو اِس کے بعد جو زبان اپنوں سے بات کرنے، اپنی ضروریات، خواہشات، امنگوں اور محبتوں کے اظہار کی زبان تھی، اُس کو اپنی "شناخت" کی واحد علامت بنا کر خود کو باقی........
