menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya UP Ki Ashrafia Ne Apni Zuban Pakistan Mein Bazor Nafiz Ki?

15 14
15.01.2026

قائدِاعظم نے پاکستان کے صوبے مشرقی بنگال میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی "ریاستی زبان" اردو اور صرف اردو ہوگی اور جو شخص اِس کے علاوہ کوئی بات کرتا ہے تو وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردو پاکستان کے لیے ضروری تھی۔

اِس اعلان پر ہمارے دانشور دوست کہتے ہیں کہ اردو کو گن پوائنٹ پر نافذ کیا گیا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردو پاکستان کے لیے ضروری نہیں تھی بلکہ اِسے زبردستی نافذ کیا گیا ہے۔

دیکھا جائے تو یہ دونوں الگ الگ انتہاؤں کی باتیں ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اِن انتہاؤں میں سے حقیقت تک کیسے پہنچیں؟

اگر ہم اپنے دانشور دوستوں کی بات پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ یہ بات اپنے صوبے اور مادری زبان کے پس منظر میں کرتے ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ اُن کی زبانیں اِتنی قدیم، وسیع اور عظیم ہیں کہ اُنھیں سرکاری طور پر "قبول کیا جانا" چاہیے۔

گو کہ اِن میں سے کچھ دوست اپنی بات کو زیادہ قابل قبول بنانے کے لیے یہ کہنے لگے ہیں کہ اُنھیں اردو سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، وہ خود اردو میں لکھتے یا پوڈکاسٹ کرتے ہیں، مسئلہ اُنھیں "زبانوں کی درجہ بندی" اور اردو کے سرکاری نفاذ سے ہے۔

اب ہم قائدِاعظم کی بات کو دیکھ لیتے ہیں۔ وہ اِس معاملے کو صوبائی حوالے سے نہیں بلکہ ملک کے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہے تھے۔ اُن کے پیشِ نظر ایک نوزائیدہ ملک کی ضروریات، خطرات اور ترجیحات تھیں۔

کسی بھی فیڈریشن میں مرکز کو پورے ملک کی بہتری کے لیے پالیسیاں بنانی اور اقدامات اٹھانا ہوتے ہیں۔ ایک کثیر القوم اور کثیر اللسان ملک میں اِن کاموں کے کرنے میں کافی پیچیدگیاں درپیش ہوتی ہیں اور ایک ایسے کثیر القوم اور کثیر اللسان ملک میں جس میں صوبوں کی آبادی، رقبوں، خواندگی، غربت اور انفراسٹرکچر میں بہت فرق ہوں، یہ کام اور بھی زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہوجاتا ہے۔

کثیر القوم اور کثیر اللسان ریاستوں میں کچھ لوگ اپنی صوبائی شناخت کو نہ صرف اپنی بنیادی بلکہ واحد شناخت سمجھتے ہیں اور اپنی قومی (ملکی) شناخت کا اقرار مجبوری کے عالم میں ہی کرتے ہیں۔ اِن میں سے کچھ قومیت پرست یہ تک سمجھتے ہیں کہ اُن کے صوبوں کو خودمختار اور آزاد ملک ہونا چاہیے تھا اور اُنھیں ایک فیڈریشن میں صوبے کی ماتحت پوزیشن دینا اِن خطوں کی توہین ہے۔

کسی بھی فیڈریشن میں یہ امکانات ہوتے ہیں کہ اُس کے کچھ خطے آسودہ حال ہوں اور کچھ پسماندہ۔ تیسری دنیا کی ریاستیں اپنے پسماندہ حصوں کے لیے غربت کم کرنے اور انفراسٹرکچر بہتر کرنے کے پروگرام چلاتی ہیں۔ ایسے پروگراموں کی فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ شہریوں کے ٹیکسوں اور خام مال، تیار شدہ مصنوعات اور قدرتی وسائل کی برآمدات سے آتا ہے۔ یہ مصنوعات اور قدرتی وسائل ملک کے کسی نہ کسی صوبے میں تیار کیے جاتے اور زمین سے نکالے جاتے ہیں۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آسودہ حال خطوں کے شہریوں سے جو ٹیکس جمع کیا جاتا ہے وہ پسماندہ علاقوں کے لوگوں سے وصولی سے زیادہ ہو مگر اُس کا زیادہ حصہ پسماندہ علاقوں میں کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کی فنڈنگ میں استعمال ہوتا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ چونکہ........

© Daily Urdu