Subai Tashkeel e Nao, Khof Kyun?
صوبائی تشکیل ِنو، خوف کیوں؟
قصبے، ٹاؤن، تحصیلیں، اضلاع اور ڈویژن پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافہ ہوا، نئی بستیاں آباد ہوئیں، شہروں کی حدود پھیلتی گئیں اور ضرورت کے مطابق نئی تحصیلیں، نئے اضلاع اور نئی ڈویژنیں بھی بنتی رہیں۔ ان فیصلوں پر کہیں کہیں اختلاف ضرور ہوا، لیکن کبھی ایسا طوفان برپا نہیں ہوا جیسا آج نئے صوبوں کی تشکیل کی تجویز پر نظر آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر نئے صوبوں کا ذکر آتے ہی سیاست میں ایسی بے چینی کیوں پیدا ہو جاتی ہے؟ کیا یہ واقعی قومی مفاد کا مسئلہ ہے یا اقتدار کے مراکز کی تقسیم کا خوف؟
پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس ملک نے ون یونٹ کا تجربہ بھی کیا اور اس کے نتائج بھی بھگتے۔ پھر ملک دو لخت ہوا اور اس سانحے نے پوری قوم کو یہ سبق دیا کہ طاقت کا حد سے زیادہ ارتکاز، سیاسی ناانصافی اور احساسِ محرومی کسی بھی ریاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سانحے کی تمام وجوہات انتظامی نہیں تھیں، لیکن اس نے یہ ضرور سکھایا کہ عوامی احساسات، انصاف اور متوازن حکمرانی کو نظر انداز کرنا ہمیشہ مہنگا پڑتا ہے۔
قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک سیاسی جماعتیں بدلتی رہیں، حکومتیں آتی جاتی رہیں، مارشل لا بھی آئے اور نام نہاد جمہوریتیں بھی چلتی رہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج جو جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بلند بانگ دعوے کرتی ہیں، ان میں سے اکثر کسی نہ کسی دور میں فوجی حکومتوں کے ساتھ بھی چلتی رہی ہیں اور اقتدار کے ایوانوں........
