menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pims Ka Afsosnak Waqia: Hadsa, Ghaflat Ya Sazish?

131 0
28.08.2026

پمز کا افسوس ناک واقعہ: حادثہ، غفلت یا سازش؟

ملک جب کسی جنگ، قومی بحران یا ہنگامی صورتِ حال سے گزر رہا ہو تو ایسے واقعات معاشرے کے اجتماعی اعصاب کا امتحان بن جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں ریاستی اداروں، حکومت، انتظامیہ، سیاسی جماعتوں، میڈیا اور عوام، سب کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی مزاج کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی بڑے حادثے کے فوراً بعد حقیقت جاننے سے پہلے اس کی سیاسی تعبیر تلاش کی جانے لگتی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کم ہی کیا جاتا ہے، جبکہ الزامات، قیاس آرائیاں اور سیاسی فیصلے پہلے سامنے آ جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق کا مرحلہ بعد میں اور فیصلہ پہلے صادر کرنے کی روایت مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، کے زچہ و بچہ وارڈ میں پیش آنے والا المناک واقعہ اسی سنجیدگی، احتیاط اور انسانی حساسیت کا تقاضا کرتا ہے۔ 26 اگست کی صبح پیش آنے والی آتش زدگی میں 14 نومولود بچوں کی جانیں چلی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات میں ایئرکنڈیشننگ نظام سے متعلق خرابی کو آگ لگنے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا، تاہم حتمی حقیقت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔

یہ محض ایک ہسپتال میں آگ لگنے کی خبر نہیں۔ یہ چودہ خاندانوں کے گھروں میں اترنے والا ایسا دکھ ہے جس کا کوئی ازالہ ممکن نہیں۔ جن ماؤں نے اپنے بچوں کو جنم دے کر ان کے مستقبل کے خواب دیکھے ہوں، ہر بچے کے باپ نے اپنے نومولود کو گود میں اٹھانے اور گھر لے جانے کی امید باندھی ہو، ان کے لیے چند لمحوں میں سب کچھ ختم ہو جانا ایک ایسا صدمہ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ایسے موقع پر سب سے پہلے انسان کو انسان رہنا چاہیے۔ سیاست، جماعت، اقتدار اور اختلاف اپنی جگہ، مگر ایک معصوم بچے کی زندگی اور موت کا معاملہ ان سب سے کہیں زیادہ حیثیت رکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پمز کے واقعے کو کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں استعمال کرنے سے پہلے ہمیں اپنے اجتماعی رویے پر غور کرنا چاہیے۔ اگر کوئی سیاسی حلقہ اسے حکومت کی ناکامی قرار دیتا ہے تو اسے اپنے دعوے کے ساتھ شواہد بھی پیش کرنے چاہئیں۔ اگر........

© Daily Urdu