Pakistan Kisi Ke Baap Ka Mulk Nahi
پاکستان کسی کے باپ کا ملک نہیں
عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ یہ بڑھاپے کی عمر کوپہنچ کر بھی ذہنی طور پر بڑا نہ ہوسکا۔ ایک جھجھک شدہ کھلاڑی جو کھیل کے میدان میں جیتنے اور عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے باوجود بطور انسان لڑکپن سے باہر ہی نہیں آسکا۔ یہ بات آج تک کسی نے کیوں نوٹ نہیں کی کہ زندگی اور سیاست کو کرکٹ کی روشنی میں چلانے والا یہ آدمی کھیل کے میدان اور دنیا کی بساط میں فرق کا شعور ہی نہیں رکھتا۔
حقیقی انقلابی لیڈر آنے والی نسلوں کی نظریاتی تربیت کرتے ہوئےان کے اذہان کو صدیوں تک کے لیے سیاسی سماجی سنجیدگی سے بھر دیتا ہے جبکہ عمران خان نے اپنے فالوورز کے دہانے مغلظات سے بھر دیے ہیں۔ جہاں نظریہ نہیں ہوتا ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ بیچارہ نہ تو خود میچور ہوسکا نہ اس کے فالوورز ہو سکے۔ سہیل آفری کہتا ہے ملک کسی کے باپ کا نہیں، اگر ایسا ہے تو پھر ملک عمران خان کے باپ کا بھی نہیں، نا ہی یہ سہیل آفریدی کے باپ کا ہے۔
ملک ان غریب عوام کا ہے........
