menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naya Aalmi Nizam Kya Hai

25 0
08.05.2026

نیا عالمی نظام کیا ہے

چین کے زیر اثر دنیا ایک نئے ورلڈ آرڈر میں داخل ہو رہی ہے جسے ٹرانزیکشنل سسٹم کانام دیاجا رہا ہے۔ ٹرانزیکشنل ورلڈ آرڈر دراصل ایک ایسا عالمی نظام ہے جس میں ریاستیں اپنے تعلقات کو اصولوں، نظریات یا مستقل وابستگیوں کے بجائے فوری مفادات، سودے بازی اور وقتی فائدے کی بنیاد پر استوار کرتی ہیں، یعنی یہاں دوستی یا دشمنی مستقل نہیں رہتی بلکہ ہر تعلق ایک "ڈیل" کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس فریق کو کیا حاصل ہو رہا ہے، اس نظام میں طاقتور ممالک اپنی شرائط کے مطابق تعلقات ترتیب دیتے ہیں جبکہ کمزور ممالک حالات کے مطابق خود کو ڈھالتے ہیں، یوں عالمی سیاست ایک ایسے بازار میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں ہر چیز کی قیمت ہے اور ہر تعلق ایک لین دین کی صورت رکھتا ہے۔

اس بنیادی تعارف کے بعد جب ہم اس نظام کے ابھرتے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہیں تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اسے صرف مغربی زاویے سے نہ دیکھیں بلکہ اس میں مشرق، بالخصوص چین کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی سمجھیں، کیونکہ اکیسویں صدی میں عالمی نظام کی تشکیل اب یک قطبی نہیں رہی بلکہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت، معیشت اور بیانیہ مختلف مراکز میں تقسیم ہو کر ایک نئے طرز کی عالمی ترتیب پیدا کر رہے ہیں۔

چین اس نئے منظرنامے میں محض ایک معاشی قوت نہیں بلکہ ایک ایسے ماڈل کا نمائندہ بن کر سامنے آیا ہے جو بظاہر نظریاتی تصادم سے گریز کرتا ہے مگر عملی طور پر انتہائی گہری ٹرانزیکشنل بنیادوں پر استوار ہے، چین کی عالمی حکمت عملی میں ہمیں واضح طور پر یہ نظر آتا ہے کہ وہ کسی ملک کے سیاسی نظام، جمہوری اقدار یا داخلی ڈھانچے پر تنقید کرنے کے بجائے براہِ راست معاشی شراکت داری، انفراسٹرکچر سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتا ہے، اس حکمت عملی کی سب سے نمایاں مثال بیلٹ اینڈ روڈ انِشیئٹو ہے جس کے........

© Daily Urdu