Jhang Ki Siasi Aab o Hawa
جھنگ کی سیاسی آب و ہوا
سرزمین جھنگ کا شمار برصغیر کے ان قدیم شہروں میں ہوتا ہے جن کی مٹی میں تاریخ کی تہیں آج بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جھنگ کی بولی میں آج بھی یونانی زبان کے بعض الفاظ موجود ہیں، گویا یہ دھرتی صدیوں کے تمدنی سفر کی گواہ ہو۔ یہی وہ شہر ہے جس کی تحصیل کبھی لائلپور ہوا کرتی تھی اور آج وہی لائلپور یعنی فیصل آباد ترقی، صنعت، تعلیم اور جدید شہری سہولتوں کے اعتبار سے پاکستان کے نمایاں شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ مگر جھنگ اپنی تمام تر تاریخی عظمت، ثقافتی شناخت اور علمی روایت کے باوجود ہمیشہ ایک عجیب سیاسی محرومی کا شکار رہا۔ یہاں کی سیاست زیادہ تر جاگیردار طبقے، شہری کاروباری گروہوں یا مذہبی تنظیموں کے گرد گھومتی رہی۔ عوام کے بنیادی مطالبات بھی کبھی گلیوں، نالیوں، تھانہ کوتوالی اور چھوٹے موٹے انتظامی معاملات سے آگے نہ بڑھ سکے۔ شہریوں نے بھی اپنے خواب محدود رکھے اور منتخب نمائندوں نے بھی اپنی سیاسی ذمہ داری کو چند سڑکوں اور نکاسی آب کے منصوبوں تک محدود رکھا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جغرافیائی اعتبار سے ایک مرکزی شہر ہونے کے باوجود جھنگ نہ کبھی ریلوے جنکشن بن سکا، نہ موٹروے کا مرکز، نہ ہی جدید طبی سہولتوں کا حامل شہر۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ صحت کے میدان میں وہ اپنی تحصیلوں سے بھی پیچھے رہ گیا۔ دوسری طرف فیصل آباد، جو کبھی........
