Dialysis Ward Mein Mareez Nahi, Hukumat Leti Hai
ڈائیلاسز وارڈ میں مریض نہیں، حکومت لیٹی ہے
کبھی کبھی ایک ہسپتال پورے ملک کی تصویر بن جاتا ہے۔ ایک وارڈ محض علاج کی جگہ نہیں رہتا بلکہ حکومت کے ضمیر کا آئینہ بن جاتا ہے۔ لاہور کے شیخ زید ہسپتال کا ڈائیلاسز وارڈ بھی ایک ایسا ہی آئینہ ہے۔ یہاں بستر پر صرف گردوں کے مریض نہیں لیٹے، یہاں ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات لیٹی ہوئی ہیں، یہاں ہمارے منصوبے لیٹے ہوئے ہیں، یہاں ہماری سیاست لیٹی ہوئی ہے اور سب سے بڑھ کر یہاں وہ خاموش انسانیت لیٹی ہوئی ہے جسے ہر حکومت اپنے منشور میں تو یاد رکھتی ہے، مگر اپنی ترجیحات میں نہیں۔
ڈائیلاسز کی مشین ایک عجیب ایجاد ہے۔ یہ صرف خون صاف نہیں کرتی، یہ انسان کو امید کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ ایک مریض اپنی زندگی اس طرح مشین کے حوالے کرتا ہے جیسے کوئی پرندہ اپنی آخری اڑان سے پہلے آسمان پر اعتماد کرتا ہے۔ مگر جب وہی مشینیں بوڑھی ہو جائیں، ان کی دھڑکنیں کمزور پڑ جائیں، ان کے پرزے عارضی مرمتوں کے سہارے چل رہے ہوں، تو پھر صرف مشین نہیں تھکتی، امید بھی تھکنے لگتی ہے۔
اس وارڈ میں گرمی صرف موسم کی نہیں۔ یہاں گرمی اس بے حسی کی بھی ہے جس نے ایئر کنڈیشنروں کو قبرستان کی یادگار بنا دیا ہے۔ کہیں........
