menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Basant Ki Wapsi

11 21
06.02.2026

گزشتہ کئی برسوں سے بسنت کے تہوار سے محروم ہوتا چلا آ رہا لاہور پچھلے دس دنوں سے بسنت کی تیاریوں میں اس طرح مصروف نظر آیا ہے جیسے کوئی عاشق اپنے بچھڑے ہوئے محبوب سے ملنے کے لیے تیاری کرتا ہے۔ بالآخر آج لاہور نے برسوں بعد ایک بار پھر اپنے آسمان پر رنگ بکھرتے دیکھے ہیں اور یہ رنگ محض پتنگوں کے نہیں بلکہ اس شہر کی کھوئی ہوئی خوشیوں، دبے ہوئے جذبات اور معطل شدہ ثقافتی شناخت کے ہیں۔ بسنت کی واپسی محض ایک تہوار کی بحالی نہیں بلکہ لاہور کے اجتماعی شعور کی بازیافت ہے، ایک ایسا لمحہ جو اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ تاریخ کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اسے وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔

آج جب گلیوں، چھتوں، بازاروں اور دلوں میں ایک پرجوش چہل پہل ہے تو اس کے پیچھے ایک واضح ریاستی فیصلہ، انتظامی جرأت اور سیاسی اعتماد کارفرما ہے، جس کا سہرا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سر جاتا ہے، جنہوں نے پنجاب بالخصوص لاہور کو وہ ثقافتی موقع واپس دلایا ہے جو اس شہر کی پہچان تھا اور جس کی کمی برسوں سے شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ لاہور ہمیشہ سے صرف اینٹوں، سڑکوں اور عمارتوں کا شہر نہیں رہا بلکہ یہ روایت، موسیقی، میلوں، تہواروں اور اجتماعی خوشی کا مرکز رہا ہے اور بسنت اسی روایت کی سب سے روشن علامت تھی۔ آج اس........

© Daily Urdu