menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

America, China Aur Islami Mumalik Ka Khel

12 18
30.01.2026

اکیسویں صدی کی عالمی سیاست کو اگر صرف ریاستوں، معیشتوں اور طاقت کے مراکز کی آنکھ سے دیکھا جائے تو چین، امریکہ اور اسلامی دنیا کے درمیان بنتی ہوئی مثلث محض ایک سٹریٹجک کھیل دکھائی دیتی ہے، مگر جب اسی منظرنامے کو آٹھ ارب انسانوں کی اجتماعی نگاہ سے دیکھا جائے، جن میں اکثریت غربت، عدم تحفظ، جنگ، ماحولیاتی تباہی اور معاشی ناہمواری کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، تو یہ مثلث طاقت کی نہیں بلکہ استحصال کی ایک نئی جیومیٹری بن کر سامنے آتی ہے، کیونکہ جدید دنیا کی اصل تقسیم تہذیبوں، مذاہب یا ریاستوں کے درمیان نہیں بلکہ ایک طرف وہ عالمی اشرافیہ ہے جو سرمایہ، اسلحہ، ٹیکنالوجی اور بیانیے پر قابض ہے اور دوسری طرف وہ کروڑوں عوام ہیں جن کے لیے جنگ، پابندیاں اور بحران محض خبروں کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت ہیں۔

امریکہ اس نظام کا سب سے پرانا اور منظم محافظ رہا ہے، جس نے جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کے نعروں کے تحت ایسی عالمی ترتیب قائم کی جس میں جنگ ایک صنعت بن گئی، اسلحہ ساز کمپنیاں ریاستی پالیسی پر اثرانداز ہوئیں اور مسلم دنیا سمیت عالمی جنوب کو مستقل عدم استحکام کے زون میں رکھا گیا تاکہ دفاعی بجٹ، فوجی اڈے اور اسلحے کی فروخت کا پہیہ کبھی رُک نہ سکے، جبکہ چین نے اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے خود کو ایک مختلف چہرے کے ساتھ پیش کیا، مگر یہاں........

© Daily Urdu