Kya Aurat Mard Ki Mulazmat Kha Rahi Hai?
کیا عورت مرد کی ملازمت کھا رہی ہے؟
یہ کہنا کہ عورت مرد کی ملازمت کھا رہی ہے دراصل ایک ایسے بیانیے کی پیداوار ہے جو مسئلے کی جڑ کو دیکھنے کی بجائے آسان ہدف تلاش کرتا ہے۔ جب بھی معاشی دباؤ بڑھتا ہے، بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور گھر کے اخراجات پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں تو معاشرہ اکثر عورت کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عورتیں دفاتر میں آ گئیں اس لیے مردوں کے لیے روزگار کم ہوگیا۔ یہ بات سننے میں جتنی سیدھی لگتی ہے حقیقت میں اتنی ہی سطحی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ عورت مرد کی ملازمت کھا رہی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ روزگار کے مواقع کم کیوں ہوئے؟ ریاستی پالیسیاں کیوں ناکام ہوئیں؟ صنعتیں کیوں بند ہوئیں؟ تعلیم اور ہنر میں خلا کیوں پیدا ہوا؟ مرد اپنی روایتی برتری کے باوجود کیوں پیچھے رہ گیا؟ اگر ان سوالوں کو چھوڑ کر صرف عورت پر انگلی اٹھائی جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے چھت ٹپک رہی ہو اور الزام بارش پر لگا دیا جائے۔
صدیوں تک عورت کو گھر کی چار دیواری میں محدود رکھا گیا۔ اسے باور کرایا گیا کہ اس کی اصل ذمہ داری صرف چولہا چوکا اور بچوں کی پرورش ہے۔ مرد کو کفیل اور عورت کو تابع سمجھا گیا۔ مگر وقت نے کروٹ بدلی۔ مہنگائی نے گھر کی بنیادیں ہلا دیں۔ ایک تنخواہ میں گزارا مشکل ہوگیا۔ تعلیم عام ہوئی تو عورت نے بھی اپنے لیے راستہ بنایا۔ اس نے پڑھنا شروع کیا، نوکری کی اور اپنے وجود کو صرف کسی کی بیٹی بیوی یا ماں کے دائرے سے باہر نکالا۔
اب اگر........
