Aurat Ko Izzat Nahi Haq Dijye
عورت کو عزت نہیں حق دیجیئے
عورت کو ہمیشہ عزت کے خوبصورت لفظ میں لپیٹ کر اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ پاکستانی معاشرے میں عورت کو بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ تم ہماری عزت ہو مگر جب جائیداد کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو یہی عزت بوجھ بن جاتی ہے۔ جب تعلیم کی بات ہو تو عزت کے نام پر اس کے خوابوں کو گھر کی چار دیواری میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ جب اپنی پسند کی زندگی گزارنے کا سوال آئے تو غیرت کے نام پر اس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عورت صرف عزت نہیں بلکہ حق مانگ رہی ہے کیونکہ عزت اگر حق کے بغیر ہو تو وہ صرف دکھاوے کا پھول ہے جس میں خوشبو نہیں ہوتی۔
عزت اور حق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ عزت ایک رویہ ہو سکتی ہے مگر حق ایک قانونی اور انسانی ضرورت ہے۔ عزت دینے والا جب چاہے واپس لے سکتا ہے مگر حق کوئی چھین نہیں سکتا۔ عورت کو اگر صرف عزت دی جائے لیکن تعلیم نہ دی جائے تو وہ محتاج رہتی ہے۔ اگر عزت دی جائے مگر وراثت نہ دی جائے تو وہ معاشی غلام بن جاتی ہے۔ اگر عزت دی جائے مگر فیصلے کا اختیار نہ دیا جائے تو اس کی زندگی پنجرے میں قید پرندے کی طرح ہوتی ہے۔ اس لیے عورت کو عزت سے زیادہ حق کی ضرورت ہے کیونکہ حق انسان کو خود مختار بناتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں عورت کی زندگی تضادات........
