menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maths Aur Muhabbat

23 0
23.10.2026

1996 میں میری کتاب مجھے محبت سے ڈر لگتا ہے شائع ہوئی تھی۔ اس میں چند نثری نظمیں تھیں، جو میں نے لڑکپن سے لے کر بیس اکیس برس کی عمر تک لکھی تھیں۔ کتاب کے پیش لفظ، "پہلی بات" میں۔

میں نے لکھا تھا: "میری جنریشن کی کسی عورت کو شاعری کرنے کی ضرورت نہیں"۔

بچپن کی کہانیاں، لڑکپن کے خواب، دل ٹوٹنے کے تجربے، خوابوں کے بکھرنے کا دکھ، عشق کی نزاکتیں، آرزو کے اسرار، ورکنگ وومن کا المیہ، خوب صورت ہونے کے نقصانات، یہ سب تو پروین شاکر کی شاعری میں پہلے سے موجود تھا۔ پھر ہم جیسے کیوں لکھنا چاہتے ہیں؟

کتاب کے عنوان میں میرے لیے محض ایک جملہ نہیں، ایک اعتراف، ایک confession بھی تھا۔ میں محبت کی کشش سے انکار نہیں کرتی تھی، مگر اس کی طاقت کو اپنی کمزوری بھی سمجھتی تھی۔ محبت مجھے مسحور کرتی تھی، لیکن میں زندگی کو اس کی اصل صورت میں قبول کیے بغیر اسے رومانوی رنگ دینے کے حق میں نہیں تھی۔ شاید مجھے محبت سے نہیں، اس کے اس تصور سے ڈر لگتا تھا جس میں خواب تو بہت ہوتے ہیں، مگر ان خوابوں کی قیمت اور ان کے بعد بچ رہنے والی زندگی کا ذکر کم ہوتا ہے۔

خوب صورت تو وہ لڑکیاں تھیں جنہیں دیکھ کر ان کی نالائقی کے باوجود viva میں زیادہ نمبر ملے یا جنہیں دیکھ کر راہی راستہ بھول جاتے تھے۔ یہ گلہ یا طنز نہیں، میری زندگی کا ایک مشاہدہ ہے۔

کچھ لوگ اکثر میرے سچ کو self-deprecating humour سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ سچ صرف سچ ہوتا ہے۔

میں فوٹوجینک ہوں، خوب صورت نہیں۔

ذرا فرق سمجھیے۔ ایک ہلکی پھلکی بات یہ بھی ہے کہ

beauty lies in the eyes of my make-up artist!

اچھے میک اَپ کے بعد میں واقعی بہت اچھی لگتی ہوں۔ یا لگتی تھی۔ اس عمر میں تو میک اَپ کی ضرورت کچھ زیادہ ہی پڑ جاتی ہے۔ اب یہ حسن ہے، ہنر ہے یا دونوں کی ملی بھگت، اس کا فیصلہ آپ خود کر لیجیے۔

لیکن اس مذاق کے پیچھے کچھ ایسے تجربات بھی ہیں جنہیں کسی ہلکے پھلکے جملے میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ بچپن میں بدسلوکی، جنسی استحصال، ریپ اور marital rape جیسے تجربات سے گزرنے کے بعد کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے شاید میں صرف محرومیوں ہی کی حق دار تھی۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو سمجھتی ہوں کہ یہ احساس بھی عورت کے اندر بٹھائے گئے ان جھوٹوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے وہ دوسروں کے کیے کی ذمہ داری خود اٹھانے لگتی ہے۔ کسی عورت کے ساتھ ہونے والا تشدد اس کے حسن، اس کی کمی یا اس کی کسی غلطی کا ثبوت نہیں ہوتا۔

محبت اور تحفظ کی خواہش کے باوجود محرومی بھی میرے حصے میں آئی۔ شاید اسی لیے میں حسن، محبت اور عورت کی قدر کے بارے میں کسی ایک آسان نتیجے پر نہیں پہنچ پاتی۔

میں فیمنسٹ ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ عورت کی تصویر سے زیادہ اس کے تصور، اس کی ذہانت، اس کے کردار اور اس کی صلاحیتوں کو اہمیت دی جائے۔ لیکن حسن اور ظاہری شکل و صورت کے بارے میں میرے خیالات محض نظریاتی نہیں، ان کے پیچھے بچپن کی کچھ خواہشیں اور ان سے جڑی ہوئی یادیں بھی ہیں۔

بچپن میں مجھے اسکول کے ڈراموں اور ٹیبلو میں حصہ لینے کا شوق تھا۔ اس عمر میں شاید مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ کسی کردار کے لیے منتخب ہونے میں صلاحیت کے ساتھ ساتھ ظاہری شکل بھی کتنی اہم سمجھی جا سکتی........

© Daily Urdu