menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kisi Aur Admi Se Humein Chahiye Tha Milna?

34 0
11.10.2026

کسی اور آدمی سے ہمیں چاہیے تھا ملنا؟

نوٹ: یہ ایک ادبی تحریر ہے، جس میں تخیل، یادداشت اور کئی عورتوں کے تجربات ایک دوسرے میں مدغم ہیں۔ کردار، واقعات اور مکالمے ادبی تشکیل سے گزرے ہیں، اسے کسی فرد کے خلاف قانونی شہادت یا الزام کے طور پر نہیں، بلکہ عورتوں کے تجربات، یادداشت اور خاموشیوں پر ایک تخلیقی تحریر کے طور پر پڑھا جائے۔

یہ ایک کلینیکل نشست کا عکس ہے، اپنی جیسی بے ردا عورتوں کے آنسوؤں اور آہوں سے بنی ایک رَلی، جسے اس اِن ڈی سینٹ رائٹر نے اپنی زیبِ داستان کے ساتھ سنوارا ہے۔ آنسو کسی کے بھی ہوں، کسی بھی وجہ سے ہوں، نمکین ہی ہوتے ہیں۔

یہ عورتوں کے ان تجربات کی ایک فیمِنِسٹ آٹوپسی بھی ہے۔ محبت، وفاداری اور قربانی کے نام پر خود کو مسلسل پیچھے کرتے رہنے کی اور اُس سماجی دباؤ کی جو اکثر عورت ہی کے جسم، زندگی اور مستقبل پر آ کر گرتا ہے۔

اس تحریر کے حصوں کے عنوانات پروین شاکرکے شعری مجموعوں سے مستعار ہیں۔ یہ محض عنوان نہیں، ایک ادبی تجربہ بھی ہے: محبت کی شاعرہ کے عنوانات کو اُن عورتوں کی کہانیوں کے ساتھ رکھنا جن کی زندگیاں محبت کے نام پر گزریں، مگر محبت سے اکثر خالی رہیں، جنہوں نے رشتے نبھاتے نبھاتے اپنی خواہشیں، خواب، شناخت اور کبھی اپنی پوری زندگی تک قربان کر دی۔ خوشبو، صد برگ، خودکلامی، انکار اور ماہِ تمام اس سفر کے مختلف مرحلوں کے لیے ایک ادبی ساخت فراہم کرتے ہیں۔

کلینک ڈاکٹر رخشندہ پروین

وہ سب میرے سامنے بیٹھی تھیں۔ پانچ عورتیں، شاید۔

ہاتھوں میں ایک پرانا بکس تھا، جس میں شاید سو، دو سو خط تھے۔ کاغذ زرد پڑ چکے تھے، کناروں سے مڑے ہوئے، جیسے برسوں کسی الماری کی نمی میں سانس لیتے رہے ہوں۔ مگر لکھائی ابھی تک تیز اور تلخ تھی۔

پہلی نے کہا: "آج میں جواب لکھوں گی۔ برسوں کے بعد۔ چاندی ہو گئے کھیس"۔

تیسری کے ہاتھ میں ایک خط تھا، مگر وہ اسے کھول نہیں رہی تھی۔

چوتھی بار بار اپنا دوپٹہ درست کر رہی تھی۔

پانچویں نے پوچھا: "ہماری عمر کتنی ہے؟"

میں نے دیکھا۔ کوئی ستائیس برس کی تھی، کوئی پینتیس کی، کوئی پینتالیس، کوئی پچپن کی اور ایک شاید اس سے بھی آگے۔

مگر سب بضد تھیں: "ہم بائیس سال کے ہیں"۔

میں نے صرف اتنا کہا: "لکھیے"۔

میں گننے بیٹھی تو الجھ گئی۔

شاید یہ سب مختلف عورتیں ایک ہی تھیں؟

عمر کی مختلف دہائیوں میں کھڑی، پانچ الگ الگ صاحبوں کی محبت، نفرت، شدت اور دیوانگی سے گزرتی ہوئی؟

یا شاید صاحب بھی پانچ نہیں تھے۔

شاید صرف ایک ہی صاحب تھا، جو پانچ مختلف ناموں، عہدوں، رشتوں اور چہروں میں عورتوں کی زندگی میں داخل ہوتا رہا تھا۔

مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ یہ بھی ایک متھ ہے۔

کیا یہ سب صنفی یا جنسی تشدد نہیں۔ یا ہے؟

"میں عورت ہوں، ڈاکٹر صاحبہ کہیے"۔

"جی جی، ڈاکٹر صاحبہ! آپ اُن تک خط پہنچا دیں گی؟ شاید یہ خط بالآخر اُس تک پہنچ جائے"۔

صرف بکس اپنی طرف کھینچ لیا۔

ایک خاموشی تھی جس میں سب کی آوازیں اکٹھی ہوگئیں۔ جیسے سو دریا ایک ہی سمندر میں اتر رہے ہوں۔

ہم سب نے مل کر گننا شروع کیا۔

1۔ خوشبو یادیں اور خط

آپ نے مجھے سینکڑوں نہیں، ہزاروں خط لکھے۔

کبھی محبت میں ڈوبے ہوئے، جیسے دنیا میں صرف دو جسم اور ایک روح باقی رہ گئی ہو۔

کبھی وہ خط جن میں آپ نے مجھے دھتکارنے کی وجہ تک نہ بتائی۔ بس ایک دروازہ بند کر دیا اور کہا کہ باہر سے مقفل تھا۔

میں آج یہ سب یاد کرکے رو نہیں رہی۔

آپ نے مجھے کچھ میٹھی یادیں بھی دیں۔ پہلی بارش، پہلا سفر، وہ راتیں جن میں آپ کی آواز میرے کان میں لوری کی طرح اترتی تھی۔

آپ نے مجھے بدن کے موسموں اور محبت کی بے اختیاری سے روشناس کرایا۔ اپنی پسند کے شاعروں اور شاعرات کی کتابیں بھی دیں، بعض پر اُن کے دستخط تھے، بعض پر ایسی ذاتی تحریریں جنہیں میں نے اپنے لیے خاص سمجھا۔ باتیں بھی بانٹیں، کتابیں بھی، سفر بھی، خاموشیاں بھی۔ سب کچھ بانٹا تھا۔ یا صرف دکھانے بھر کو؟

میں انہیں جھٹلاتی نہیں۔

اور شاید یہی مسئلہ ہے۔

جھوٹ کو بھلا دینا آسان ہوتا ہے۔

لیکن ان کے بعد جو آیا، وہ ایک سمندر تھا۔ کڑواہٹ کا، بے وفائی کا اور اس خاموش ظلم کا جسے دنیا "گیس لائٹنگ" کہتی ہے، مگر ہماری پیاری پاکستانی........

© Daily Urdu