menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Be Wafa Mard Ki Kahani: Mujh Par Yaqeen Rakho

54 0
28.09.2026

"ایک بے وفا مرد کی کہانی": مجھ پر یقین رکھو

کیا آپ کسی ایسی لڑکی کو جانتے ہیں جس سے کسی مرد نے خود آ کر محبت کی ہو؟ یعنی لڑکی سادہ سی ہو، صاف دل کی، عام سی۔ اس نے "ڈورے" نہ ڈالے ہوں، کسی کو "پٹانے" کی کوئی حکمتِ عملی نہ بنائی ہو۔ بس کسی کی توجہ کو، کسی کے کسی لمحے کی ضرورت کو عشق سمجھ لیا ہو۔ وہ بھی بنا روبرو ملاقات کے۔

جغرافیے کے فاصلے اتنے زیادہ ہوں کہ شاید عام حالات میں قربت کا تصور بھی مشکل ہو، مگر کچھ الفاظ بہت زیادہ قربت پیدا کر دیں۔ سب کچھ بہت شدید ہو، بہت جلدی جلدی ہو جائے۔ وہ اس کی باتوں میں آ کر اپنا آبائی گھر بھی چھوڑ دے اور ایک اور وطن میں آ جائے، مگر جغرافیے کے فاصلے پھر بھی برقرار رہیں اور وہ پھر بھی اس کی محبت، بلکہ عشق میں مبتلا رہے۔

وہ مرد جس نے اس کی خوب صورتی کی تعریف کی ہو، اس کی ذہانت کو سراہا ہو، اس پر اعتماد کیا ہو اور اسے یہ یقین دلایا ہو "مجھ پر یقین رکھو۔ میں اوروں جیسا نہیں ہوں" اور لڑکی نے یقین کر لیا ہو۔

اس نے اندیشوں کی صلیبوں کو اور وسوسوں سے بنی ہوئی چادر کو اتار دیا ہو اور اس مرد کے ساتھ برابری کی سطح پر، مان سے، بات کی ہو۔ اس کی بات مانی ہو۔ اس کے خوابوں کو اپنے خواب سمجھا ہو۔

پھر اس نے اپنی ساری وفا اس کے نام کر دی ہو۔ وہ جہاں لڑنے کو کہے، وہاں لڑے۔ جہاں آواز اٹھانے کو کہے، وہاں آواز اٹھائے۔ جہاں خطرہ مول لینے کو کہے، وہاں خطرہ مول لے۔ کیونکہ محبت میں بعض عورتیں صرف محبت نہیں کرتیں۔ وہ دلبر کے کہے ہوئے دکھائے ہوئے مستقبل پر بھی یقین کر لیتی ہیں۔

پھر ایک دن اچانک اس خوب صورت سی محبت کی کہانی میں ایک ظالم معاشرہ داخل ہو جائے۔ مرد پیچھے ہٹنے لگے۔ کہے "مجھے اپنے خاندان کو بھی دیکھنا ہے۔ اپنے لوگوں کو بھی" اور اس لڑکی کو پھر بھی یہ سوال کرنے کی جرات نہ ہو "آپ کا خاندان آپ کے اپنے، مگر میں کون ہوں؟"

پھر وہ نظریں چرانے لگے۔ بہانے بنانے لگے۔ کبھی کبھی پرتشدد بھی ہو جائے اور آخرکار انکار ہی کر دے۔

"تم کون ہو؟ میں اس عورت کو نہیں جانتا۔ میرا تم سے کیا واسطہ؟" وہ عورت اپنا چہرہ دیکھے، اپنی حیثیت دیکھے، اپنی وفا دیکھے اور سوچے، آخر مجھ سے غلطی کہاں ہوئی؟

اور اگر وہ پوچھے "کل تک تم ہی تو آئے تھے؟ تم ہی نے کہا تھا، مجھ پر یقین کرو؟" تو جواب آئے "توقف کر لیں"۔

"ہم دونوں کے حق میں۔ آپ ادھر، میں ادھر"۔

اتنی قربت تھی کہ اس لڑکی کی طرف سے بھی فیصلہ لے لیا، اس سے پوچھا تک نہیں؟

پھر جب طوفان تھم جائے اور مرد اپنی نئی زندگی شروع کر لے تو اپنی نئی اقلیم سے ایک دور کے جزیرے کی طرف نگاہ کرے، کسی خیراتی کام کا سوچے اور شاید کسی نوکر، کسی ڈرائیور کے ہاتھ ایک لاکھ روپے بھجوا دے اور سمجھ لے: رات گئی، بات گئی، کہانی ختم۔ مگر کہانیاں اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتیں۔

کبھی عورت اسی جگہ رہ جاتی ہے جہاں اسے چھوڑا گیا تھا۔ کبھی اس کا گھر جلا دیا جاتا ہے۔ کبھی اس کے باپ، بھائی، شوہر یا بیٹے مار دیے جاتے ہیں۔ کبھی اس کی عزت تار تار کر دی جاتی ہے اور کبھی اس کے زخموں پر نصف صدی سے زیادہ وقت گزر جاتا ہے، مگر وہ عورت پھر بھی اسی سوال کے ساتھ بیٹھی رہتی ہے: جس نے کہا........

© Daily Urdu