Tax Ka Sehraa Aur Maeeshat Ka Gumshuda Qafla
ٹیکس کا صحرا اور معیشت کا گمشدہ قافلہ
تاریخِ تمدن کے اوراق میں بعض ریاستیں ایسی بھی گزری ہیں جنہوں نے اپنے خزانوں کو بھرنے کے لیے سونے کی کانیں تلاش نہیں کیں بلکہ انسانوں کی صلاحیتوں کو کان بنا دیا اور بعض سلطنتیں وہ تھیں جنہوں نے اپنے باغبانوں ہی کو کاٹ کر باغ کی زرخیزی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ پہلی قسم کی اقوام نے صدیوں تک استحکام، خوش حالی اور اقتدار کا ذائقہ چکھا، جبکہ دوسری قسم کے ممالک اپنی ہی پالیسیوں کے بوجھ تلے اس طرح دب گئے جیسے ریت پر تعمیر ہونے والی عمارت پہلے جھک جاتی ہے، پھر دراڑیں پڑتی ہیں اور آخرکار ملبے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی مالیاتی حکمتِ عملی بھی ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں سوال یہ نہیں کہ خزانے میں کتنی رقم جمع ہوئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ خزانے تک پہنچنے والے راستے کتنے وسیع ہوئے۔
ہر سال بجٹ کا موسم ایک مخصوص طرز کے سرکاری بیانیے کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ محصولات کے اہداف بلند کیے جاتے ہیں، نئے مالیاتی اقدامات کو قومی ضرورت کا عنوان دیا جاتا ہے، رعایتوں کا دائرہ محدود کیا جاتا ہے اور وصولیوں کے اعداد کو کامیابی کا مترادف قرار دے دیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں مباحث کا محور بھی عموماً یہی رہتا ہے کہ کس شعبے پر کتنا بوجھ آیا اور کون سا طبقہ کس حد تک متاثر ہوا۔ مگر اس پورے منظرنامے میں وہ بنیادی سوال گم ہو جاتا ہے جو........
