Tareek Musalas Ka Aseer
تاریخ کے اوراق پر جب کوئی آمر اپنے اقتدار کی بساط بچھاتا ہے، تو وہ صرف وقت کا حکمران نہیں بنتا بلکہ آنے والی نسلوں کے مقدر کا قلمدان بھی چھین لیتا ہے۔ پانچ جولائی 1977ء کی وہ تاریک رات پاکستان کی تاریخ کا وہ موڑ تھی جہاں بظاہر ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا گیا، مگر درحقیقت اس مصلحت پسند شب خون نے ملک کی رگوں میں عقوبت، نظریاتی تفاوت اور تزویراتی زہر کا وہ بیج بو دیا جس کی تلخ فصل ہم آج نصف صدی گزرنے کے بعد بھی کاٹ رہے ہیں۔
اس دورِ استبداد نے جس "افغان جہاد" کا دامن تھاما، وہ دراصل عالمی طاقتوں کے مفادات کی وہ شطرنج تھی جس نے سوویت یونین کی تحلیل کے بعد دنیا کے تزویراتی توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ طاقت کا وہ توازن جو عالمی امن کے لیے ایک حفاظتی حصار تھا، اس کے گرتے ہی دنیا "نیو ورلڈ آرڈر" کے اس استعماری چنگل میں پھنس گئی جہاں مشرقِ وسطیٰ کی خود مختاری سے لے کر ہندوکش کے دامن تک، ہر سو بارود اور انارکی کی بساط بچھا دی گئی۔ یوں ایک آمر کی بقا کی جنگ نے خطے کو ابدی جنگ و جدل کے ایسے الاؤ میں جھونک........
