menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Taqat Ka Ikhlaqi Sawal

28 0
09.09.2026

انسانی تاریخ کو اگر بادشاہوں، جنگوں، فتوحات اور سلطنتوں کے روایتی بیانیے سے ہٹ کر دیکھا جائے تو اس کے پس منظر میں ایک ایسی مسلسل جستجو دکھائی دیتی ہے جس نے تہذیب کی سمت متعین کی: طاقت کے حصول اور اسے اپنے تابع رکھنے کی جستجو۔ غار میں پتھر کا اوزار بنانے والے انسان سے لے کر مصنوعی ذہانت تخلیق کرنے والے انسان تک یہ سفر دراصل انسانی قوت کے دائرۂ کار کے مسلسل پھیلاؤ کی داستان ہے۔

ابتدائی انسان کی طاقت اس کے جسم، اجتماعی تعاون اور ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت تک محدود تھی۔ زراعت نے اسے زمین سے وابستہ کیا، مستقل آبادیوں نے وسائل کے ذخیرے پیدا کیے اور شہروں نے طاقت کو منظم اداروں میں ڈھال دیا۔ بین النہرین کے قدیم مراکز میں تحریر، محصول، تجارت، مندر، محل اور انتظامی نظام کے ظہور نے یہ حقیقت واضح کردی کہ طاقت صرف بازو کی قوت نہیں، وسائل، معلومات، تنظیم اور ادارے بھی اقتدار کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

شہر ریاستوں سے سلطنتوں تک کا سفر اسی ارتقا کا اگلا مرحلہ تھا۔ مصر، فارس، یونان، روم، ہندوستان اور چین کی عظیم تہذیبوں نے اپنے اپنے انداز میں ثابت کیا کہ وسیع اقتدار محض فوجی فتح سے قائم نہیں رہتا، اسے قانون، مالیات، مواصلات، انتظام اور سیاسی نظم کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت جب اخلاقی احتساب سے آزاد ہوجائے تو تعمیرِ تمدن کے ساتھ ظلم کا نظام بھی پیدا کرسکتی ہے۔ اسی........

© Daily Urdu