menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sarhadon Ke Us Par, Zehno Ke Iss Par

27 0
29.06.2026

سرحدوں کے اُس پار، ذہنوں کے اِس پار

ریاستوں کی تاریخ کبھی صرف نقشوں پر کھینچی گئی سرحدوں کی کہانی نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانی ذہن، اجتماعی شعور اور اقتدار کے باہمی تعلق کی ایسی طویل داستان ہوتی ہے جس میں ہر نسل اپنے عہد کی ایک نئی گرہ چھوڑ جاتی ہے۔ پاکستان بھی اس وقت ایک ایسے قدیم قلعے سے مشابہ دکھائی دیتا ہے جس کی بیرونی فصیلیں سفارتی اہمیت، ایٹمی قوت اور تزویراتی محلِ وقوع کی وجہ سے دنیا کی نگاہوں میں نمایاں ہیں، مگر اندرونی راہداریوں میں مختلف سمتوں سے آنے والی صداؤں کا ایسا ہجوم برپا ہے جو قومی یکسوئی کو مسلسل آزمائش میں ڈالے ہوئے ہے۔

گلگت بلتستان کی برف پوش وادیوں میں انتخابی عمل مکمل ہو چکا، حکومتیں تشکیل پا رہی ہیں اور سیاسی بساط نئے مہروں سے سج رہی ہے، لیکن اصل سوال اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ اس سماجی مزاج کا ہے جو ابھی تک روایت اور جدید شعور کے درمیان معلق ہے۔ جہاں عورت کی سماجی شرکت محض نمائشی عنوان بن جائے اور تعلیم انسانی وقار کے بجائے محض سند تک محدود ہو جائے، وہاں انتخابی نتائج وقتی سکون تو پیدا کر سکتے ہیں مگر فکری استحکام نہیں۔ ریاستیں صرف ووٹوں سے نہیں بلکہ اس تہذیبی........

© Daily Urdu