Qaumi Ittehad, Riyasti Azm Aur Pakistan Ka Mustaqbil
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا حالیہ بیان محض ایک سیاسی تقریر نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی اُس اجتماعی ذہنی کیفیت کی عکاسی ہے جو ایک بار پھر دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر تشکیل پا رہی ہے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا تو دراصل یہ جملہ قومی عزم، ریاستی ردِعمل اور ماضی کے تلخ تجربات کا نچوڑ ہے۔ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ملک میں دہشت گردی کا ناسور دوبارہ سر اٹھا رہا ہے اور اس کے پیچھے محض داخلی عوامل نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر کارفرما مفادات بھی شامل ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قیمت ادا کی ہے، وہ کسی ایک عدد یا بیان میں سموئی نہیں جاسکتی۔ ہزاروں فوجی جوان اور افسران، پولیس اہلکار، خفیہ اداروں کے کارکنان اور بے شمار عام شہری اس جنگ میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ معیشت کو سینکڑوں ارب ڈالر کا نقصان ہوا، سماجی ڈھانچہ متاثر ہوا اور عالمی سطح پر پاکستان کو مسلسل وضاحتیں دینا پڑیں۔ اس کے باوجود اگر آج دہشت گردی دوبارہ منظم شکل میں سامنے آ رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست کمزور ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن قوتیں پاکستان کے استحکام سے خائف ہیں اور اسے........
