menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qaumi Baseerat

29 0
07.10.2026

دہشت گردی کی اصل تباہ کاری صرف اس لمحے میں پوشیدہ نہیں ہوتی جب بارود پھٹتا، گولی چلتی یا کوئی معصوم زندگی چراغِ سحر کی طرح بجھ جاتی ہے، اس کا زیادہ خطرناک پہلو وہ خاموش ماحول ہے جس میں تشدد کے اسباب، وسائل، بیانیے اور سہولت کار مسلسل تشکیل پاتے رہتے ہیں۔ اگر دہشت گردی کو صرف بم دھماکوں، خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں کے اعداد و شمار تک محدود کردیا جائے تو ہم واقعے کو تو ریکارڈ کرسکتے ہیں، اس کے پس پردہ نظام کو نہیں سمجھ سکتے۔ پاکستان میں موجودہ صورتِ حال اس حقیقت کی متقاضی ہے کہ دہشت گردی کو داخلی سلامتی کے ایک محدود مسئلے کے بجائے جغرافیائی سیاست، سرحدی پیچیدگی، نظریاتی انتہاپسندی، معاشی کمزوری، حکمرانی، سیاسی اعتماد اور جدید ابلاغی ذرائع کے باہمی تعامل کے طور پر دیکھا جائے۔ ستمبر 2026 نے اس پیچیدگی کی متعدد جہتیں نمایاں کیں: خیبر پختونخوا میں کوہاٹ کے پولیس لائنز پر حملے اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملے جیسے واقعات نے براہِ راست سلامتی کے خطرے کو نمایاں کیا، جبکہ بلوچستان میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران مسلح عناصر کے خلاف آپریشن اور مغوی افراد کی بازیابی سامنے آئی۔

پنجاب کی صورتِ حال اس تصویر کا ایک مختلف مگر نہایت اہم پہلو سامنے لاتی ہے۔ یہاں ستمبر کے دوران کھلی مسلح کارروائیوں کے مقابلے میں پیشگی انٹیلی جنس اور انسدادِ دہشت گردی سرگرمیاں زیادہ نمایاں رہیں۔ پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مختلف اضلاع میں 158 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 23 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے گئے اور حکام نے دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈیز اور دیگر سامان کی برآمدگی کی اطلاع دی۔ اسی ماہ دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر صوبے میں دفعہ 144 بھی نافذ کی گئی، جبکہ بعد ازاں راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی معاونت طلب کی گئی۔ ان اقدامات سے ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے کہ دہشت گردی کا جغرافیہ صرف ان علاقوں تک محدود نہیں جہاں حملے مسلسل رونما ہوتے ہیں، بڑے شہری مراکز اور نسبتاً پُرامن علاقوں میں بھی پیشگی نگرانی، انٹیلی جنس اور حفاظتی تیاری قومی سلامتی کا ناگزیر حصہ بن چکی ہے۔

یہاں ایک اہم امتیاز بھی ضروری ہے۔ کسی صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد کم ہونا لازماً خطرے کے مکمل خاتمے کی علامت نہیں، جس........

© Daily Urdu