menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qanoon Ki Khamoshi Aur Riyasti Ghaflat

24 0
28.02.2026

قانون کی خاموشی اور ریاستی غفلت

پاکستان میں بڑے شہری سانحات کا بار بار رونما ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گہرے انتظامی، قانونی اور اخلاقی بحران کی علامت ہے۔ کراچی کے گل پلازہ میں آتش زدگی ہو یا لاہور میں کھلے مین ہول کے باعث انسانی جان کے ضیاع کا دل خراش واقعہ، یہ سانحات ایک ہی بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا ریاستی مشینری میں موجود غفلت، لاپروائی اور قانون شکنی واقعی ناقابلِ گرفت ہے، یا پھر قوانین کی موجودگی کے باوجود عمل درآمد کی عدم موجودگی نے انسانی جان کو بے وقعت بنا دیا ہے؟ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے قانونی ڈھانچے میں نہ صرف ایسے جرائم کی واضح نشاندہی موجود ہے بلکہ ان کی سزا کا تعین بھی کیا گیا ہے، مگر عملی سطح پر قانون کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے اور ذمہ دار افراد اکثر انتظامی کارروائیوں کی اوٹ میں فوجداری احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔

پاکستان پینل کوڈ اور سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ ریاستی ملازمین کسی بھی صورت قانون سے بالاتر نہیں۔ تعزیراتِ پاکستان کے تحت جلد بازی یا غفلت کے نتیجے میں کسی انسان کی موت واقع ہونا ایک قابلِ سزا جرم ہے اور اس میں سرکاری ملازم یا عام شہری کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھا گیا۔ یہ اصول بذاتِ خود جدید قانونی ریاست کی بنیاد ہے کہ........

© Daily Urdu