Pakistan Ka Muashi Safar
رات کے آخری پہر دارالحکومت کی ایک بلند عمارت میں ایک بوڑھا معیشت دان اپنے سامنے پھیلے ہوئے بجٹ کے کاغذات کو دیکھ رہا تھا۔ میز پر اعداد کی قطاریں تھیں، سرخ اور سیاہ روشنائی سے بنے ہوئے خانے تھے، قرضوں کے ہندسے تھے، دفاعی اخراجات تھے، ترقیاتی منصوبے تھے اور محصولات کے تخمینے تھے۔ اچانک ایک نوجوان نے اس سے پوچھا: "اگر خزانہ محدود ہو تو فیصلہ کیسے کیا جائے کہ کس کو زیادہ دیا جائے؟ دفاع کو یا تعلیم کو؟ تنخواہوں کو یا سڑکوں کو؟ سبسڈی کو یا صنعت کو؟" بوڑھا مسکرایا اور بولا: "تم ابھی تقسیم کے سوال میں الجھے ہوئے ہو، حالاں کہ اصل سوال تقسیم سے پہلے دولت کی تخلیق کا ہے۔ جس گھر کی آمدنی کم ہو، وہاں الماریوں کی ترتیب بدلنے سے گھر امیر نہیں ہوتا"۔
پاکستان کی معاشی داستان کا المیہ شاید یہی ہے کہ ہم برسوں سے قومی معیشت کو ایک محدود کیک سمجھ کر اس کے ٹکڑوں پر جھگڑتے رہے ہیں، مگر اس سوال کو مرکزی حیثیت نہیں دے سکے کہ یہ کیک بڑا کیسے ہوگا۔ دفاع اور ترقی، وفاق اور صوبے، سرکاری اجرت اور انفراسٹرکچر، ٹیکس اور سبسڈی، یہ سب اہم مباحث ہیں، لیکن یہ اس بنیادی حقیقت کے ثانوی سوالات ہیں کہ قومی پیداوار کی رفتار آبادی، روزگار، سرمایہ کاری اور عوامی توقعات کی رفتار سے پیچھے کیوں رہ گئی ہے۔
پاکستان کی آبادی پچیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، مگر معیشت کی پیداواری ساخت ابھی تک اس سطح کی وسعت پیدا نہیں کر سکی جو اس انسانی حجم کو باوقار روزگار، معیاری تعلیم، جدید صحت، قابلِ اعتماد توانائی، بہتر شہری سہولتوں اور عالمی معیار کی معاشی مواقع فراہم کر سکے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکومت کے پاس پیسہ کم ہے، زیادہ گہرا مسئلہ یہ ہے کہ قومی معیشت اتنی تیزی سے نئی قدر پیدا نہیں کر رہی جس رفتار سے معاشرتی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔
تصور کیجیے کہ ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس ایک ہی خزانہ ہے اور اس کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ قومی دفاع، دوسرا انسانی و معاشی ترقی۔ دونوں راستوں پر جانے کے لیے وسائل درکار ہیں۔ اگر خزانہ محدود رہے تو ہر اضافی ضرورت کسی دوسری ضرورت کی قیمت پر پوری ہوگی۔ لیکن اگر قومی آمدنی دوگنی ہو جائے تو منظر ہی بدل جاتا ہے۔ اگر 400 ارب ڈالر کی........
