Mustaqbil Ka Faisla Kis Ke Hath Mein Hoga?
مستقبل کا فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہوگا؟
فرض کیجیے، ایک صبح دنیا کو خبر ملتی ہے کہ مصنوعی ذہانت نے وہ تمام امتحانات پاس کر لیے ہیں جنہیں انسان اپنی ذہانت کا پیمانہ سمجھتا تھا۔ وہ اربوں صفحات پڑھ سکتی ہے، کروڑوں فیصلوں کا تجزیہ کرسکتی ہے، معیشت کے رجحانات کی پیش گوئی کرسکتی ہے، بیماریوں کے پھیلاؤ کا نقشہ بنا سکتی ہے اور چند لمحوں میں ایسی پالیسی تجاویز دے سکتی ہے جن پر ماہرین کو مہینوں درکار ہوتے تھے۔ دنیا حیران ہے، سرمایہ کار پرجوش ہیں اور ٹیکنالوجی کی صنعت مستقبل کے نئے نقشے بنا رہی ہے۔
مگر اسی لمحے ایک سوال پوری بحث کو دوسری سمت موڑ دیتا ہے: اگر مشین نے انسان سے زیادہ تیزی سے سوچنا سیکھ لیا ہے تو کیا انسان نے بھی بہتر فیصلہ کرنا سیکھ لیا ہے؟
یہ سوال مصنوعی ذہانت سے زیادہ انسان، ریاست اور اداروں کے بارے میں ہے۔
ہم آج مشین کی ذہانت ناپ رہے ہیں، مگر اداروں کی عقل نہیں۔ ہم الگورتھم کی رفتار گن رہے ہیں، مگر فیصلوں کی بصیرت کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس ایسا نظام ہوسکتا........
