menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khel, Siasat Aur Olumpics Ka Khwab

18 15
10.02.2026

عالمی کھیلوں کی تاریخ اس اصول پر استوار رہی ہے کہ کھیل قوموں کو جوڑنے، تنازعات کو کم کرنے اور انسانیت کے مشترکہ اقدار کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتے ہیں، مگر جب ریاستیں کھیل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگیں تو نہ صرف یہ روح مجروح ہوتی ہے بلکہ عالمی اعتماد بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ آج بھارت اسی نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، جہاں اس کے 2036 کے سمر اولمپکس کی میزبانی کے بلند بانگ دعوے ایک ایسے بحران کی زد میں ہیں جس نے اس کی کھیلوں سے وابستہ ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بھارت طویل عرصے سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا آ رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانیے میں 2036 اولمپکس اس "نئے بھارت" کی علامت سمجھے جاتے ہیں جو دنیا کو اپنی تنظیمی صلاحیت، معاشی قوت اور نرم طاقت سے متاثر کرنا چاہتا ہے۔ تاہم کھیلوں میں حالیہ واقعات نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ ریاستی مداخلت، سیاسی جانبداری اور سفارتی تنگ نظری بھارت کے کھیلوں کے ڈھانچے میں گہرائی تک سرایت کر چکی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن سے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی طویل عرصے سے خبردار کرتی آ رہی ہے۔

کرکٹ، جو بھارت میں محض کھیل نہیں بلکہ ایک قومی جذبہ سمجھا جاتا........

© Daily Urdu