Do Badmash Riyaston Ke Manzar Mein Pakistan
دو بدمعاش ریاستوں کے منظر میں پاکستان
عالمی سیاست کے معمہ خیز پیچ و خم میں پاکستان کے کردار اور اس کے دفاعی تعلقات پر دوبارہ روشنی پڑی ہے، جب اسرائیل کے سفیر رووین آزار نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں خطے کی حساس عسکری اور سیاسی صورت حال پر کھل کر بات کی۔ ان کے بیانات میں پاکستان کو اس خطے کی "دو بدمعاش ریاستوں" کے تناظر میں پیش کیا گیا، جو نہ صرف ایٹمی طاقت کے لحاظ سے اہم ہیں بلکہ خطے کے سکیورٹی ڈھانچے میں بھی غیر معمولی اثر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ریاست کے پاس پہلے ہی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جبکہ دوسری کو انہیں حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے اور یہی وہ منطق ہے جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔ اس تناظر میں وہ پہلا ملک پاکستان قرار دیتے ہیں، جو بظاہر ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے لیکن خطے کی پیچیدہ جغرافیائی اور دفاعی سیاست میں اس کے کردار کو دنیا بھر میں مختلف انداز سے دیکھا جاتا رہا ہے۔
اسرائیلی سفیر کے بیانات میں سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی تعلقات کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا، جو عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے لیے اہم حوالہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عرب دنیا، بشمول سعودی عرب، کے ساتھ تعلقات طویل المدتی ہیں اور ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جنہیں اسرائیل بطور مخالف یا دشمن دیکھتا رہا ہے۔ یہ پہلو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی دیرپا حکمت عملی اور متوازن تعلقات کے عکاس ہیں، جو اسے خطے میں طاقت کے توازن........
