menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bunyadon Ki Larzish Aur Ehad e Hazir Ka Noha

13 0
previous day

بنیادوں کی لرزش اور عہدِ حاضر کا نوحہ

تاریخِ انسانی کا یہ عالمگیر قانون اور سنتِ الٰہیہ ہے کہ جب قوموں کے نظامِ عدل میں خلل واقع ہوتا ہے، تو ظاہر کی تمام تر چکا چوند اور ناپائیدار تمکنت زوال کے طوفان کو روکنے میں ناکام ہو جاتی ہے۔ قرآنی بصیرت ہمیں بارہا متنبہ کرتی ہے: ﴿فَهَلُ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ﴾ کہ جب بنیادیں کھوکھلی ہو جائیں، تو قصرِ سلطانی کی بلندی زوال کے ناگزیر حکم کو نہیں ٹال سکتی۔ جولائی 2026ء کی اس شدید اور جاں گسل تموز میں، نئی دہلی کے تاریخی میدانِ جنتر منتر پر پولیس کی لاٹھیوں کا جبر اور مظلوم طلباء کے عزمِ مصمم کا تصادم محض ایک انتظامی حادثہ یا وقتی ہنگامہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس باطنی انحطاط کا آشکار ہونا ہے جو طویل عرصے سے نظام کی رگوں میں سرایت کر رہا تھا۔ 'نیٹ' (NEET) کے پرچوں کے افشاء اور شفافیت کا ادعا کرنے والے امتحانی اداروں کی اخلاقی شکست نے جن آلام کو جنم دیا ہے، وہ اب ایک بحرانِ معیشت و تعلیم سے بڑھ کر ضمیرِ انسانی کا استغاثہ بن چکے ہیں۔

گذشتہ دہائی کے دوران ہندوستان کے مقتدر اعلیٰ نے جس سیاسی و معاشی فلسفے کی آبیاری کی، وہ دراصل نیو لبرل ازم کے مادیت پرستانہ نعروں اور ہندوتوا کے قومی و ثقافتی احیاء کا ایک عجیب و غریب ملغوبہ تھا۔ اس نظام نے بظاہر........

© Daily Urdu