Asr e Hazir Aur Iqtidar Ke Badalte Pemane
عصرِ حاضر اور اقتدار کے بدلتے پیمانے
انسانی تاریخ اصلاً حوادث، معرکوں اور شاہی سلسلہ ہائے نسب کی محض ایک دفتری گرد نہیں، بلکہ اپنے وجود کی حفاظت، تسخیرِ کائنات اور تفوق کی پرکار خواہش کا مسلسل ارتقائی سفر ہے۔ اگر حیاتِ انسانی کی بساط کو گہرے فلسفیانہ زاویے سے ماپا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ قبیلگی سے عصرِ حاضر تک اقتدار کی جستجو ہی تمام تمدنی، سائنسی اور سیاسی تشکیلات کی بنیاد رہی ہے۔ ابتدائی دور میں قوت کا مفہوم نرا عضلاتی طاقت اور طبیعی ماحول کی سختیوں کا مقابلہ کرنے تک محدود تھا۔ تاہم، زراعت کے ظہور اور مستقل سکونت نے اس ساخت کو بالکلیہ بدل دیا۔
زمین، آبپاشی اور غلے کے ذخائر پر قبضے نے طاقت کو "وسائل کی کنٹرولنگ" کا نیا پیرا ہن عطا کیا۔ بین النہرین، وادیٔ سندھ اور مصر کے قدیم مراکز میں مندر، محل اور بیوروکریسی کا وجود اس بات کا بین ثبوت تھا کہ اقتدار اب جسمانی ساخت سے نکل کر اداروں، قوانین اور سب سے بڑھ کر انتظامی ریکارڈ (تحریر) کا پابند ہو........
