menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tahira Kazmi: Pidar Sari Samaj Ke Jabr Talay Sisaskti Aurat Ke Liye Aik Tawana Awaz

31 0
22.06.2026

طاہرہ کاظمی: پدرسری سماج کے جبر تلے سسکتی عورت کےلیے ایک توانا آواز

غرض و غایت کی نفسیات رکھنے والے لوگ ایک محدود دائرے میں جیتے اور مرتے ہیں۔ ان کی بلا سے کوئی روئے یا ہنسے۔ کسی کے درد پہ ان کا دل دکھتا ہے اور نہ ہی کسی کی تکلیف پر وہ آزردہ ہوتے ہیں۔ ان کے تصورات کے پس منظر میں یہ خیال کارفرما ہوتا ہے کہ ہم نے کسی کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا، لوگ اپنے دم پہ جییں، یہ ان کا اور خدا کا معاملہ ہے، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جنہیں دوسروں کا رونا رُلا دیتا اور دوسروں کی ہنسی ہنسا دیتی ہے۔ وہ اپنے احساسات میں اس درجے کی لطافت رکھتے ہیں کہ لوگوں کے دکھ سکھ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ جس کی حق تلفی ہو رہی ہو، وہ اس کےلیے آواز اٹھاتے ہیں، غاصب سے لڑتے ہیں اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں۔

پاکستان میں یوں تو مرد و زن کی تفریق کے بغیر ہی ہر طرف ستم کی کارفرمائی ہے، مگر عورتوں کی بات ذرا مختلف ہے۔ صنفِ مخالف سے انہیں ایسے ایسے کچوکے لگائے جاتے ہیں کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔ مارتے بھی ہیں تو ظالم تڑپا تڑپا کر۔ جنسی تعلق کے معاملے میں عورت کی "ناں" سننے کے یہ مرد ذرا روادار نہیں۔ لڑکی کے چہرے پر تیزاب یوں پھینکتے ہیں گویا کوئی مذاق ہو۔ اس کے بعد پھر لڑکی جس طرح تڑپتی ہے، یہ وہی جانتی ہے۔ چہرہ ڈراؤنا بن جاتا ہے اور زندگی ایک عذاب میں بدل جاتی ہے۔ یوں وہ پل پل جیتی پل پل مرتی ہے۔

عورت پہ روا رکھے جانے والے جبر کی جڑیں جہالت کی سرزمین میں پیوست ہیں، جسے اہلِ مذہب نے آج سے چار پانچ سو سال پہلے بڑی محنت سے تیار کیا ہے۔

جہالت سے اٹے ہوئے برصغیر کے اس پدرسری خطے کا سائنس کی دنیا سے تعلق ہمیشہ کمزور رہا ہے۔ یہاں کے لوگ صدیوں تک جابروں کے زیرِ اثر رہے اور ان کے حواس پہ ملوکیت چھائی رہی۔ رہی سہی کسر مذہبی طبقے نے نکال دی۔ اس خطے کی بہت........

© Daily Urdu