menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Najju Bhai Ka Qeema Ghotala Hotel

23 0
27.04.2026

نجو بھائی کا قیمہ گھوٹالہ ہوٹل

کیسے اپنے جذبات و خیالات کو ایک ڈوری میں پرو کر نجو بھائی کی خدمت میں پیش کروں۔ لفظوں کا کون سا خیاط بنوں کہ ان کی حیات کو مجسم باعث تکریم کر سکوں۔ ان کی تعظیم و تعریف کو الفاظ کہاں سے لاؤں۔

آپ کان سے کانا کرتے تھے

نجو بھائی کی شخصیت کی سب سے زندگی آثار خوبی ان کی گہری و بھاری آواز اور پاٹ دار قہقہے تھے۔ اگر آپ صرف سن رہے ہوں تو کسی ریاست کے راجہ ہونے کا گمان ہو۔ قوت سماعت کمزور تھی لیکن گفتگو بزور تھی۔ انہیں کسی کی سننی کہاں تھی اس لیے وہ اس کمزوری کو اپنی طاقت جانتے تھے اور اس کا بھرپور استعمال کرتے۔ میں نے ایک بار ان سے کہا تھا کہ لوگ آنکھ سے کانے ہوتے ہیں مگر آپ کی پر جلال آواز کے باعث لوگ کان سے کانے ہو رہے ہیں۔ ایک دو بار آلہ سماعت کا کسی نے کہا بھی تو بولے: جب ہم بول رہے ہوں تو کسی کو بولنے کی کیا ضرورت ہے۔ گفتگو ایسی کہ اکیلے ہی محفل اٹھا دیں۔ کمال کے بذلہ سنج، گفتگو میں واقعات سنانے کا انداز ایسا کہ ہر جملہ دافع رنج ثابت ہو۔

نجو بھائی ہمارے عزیز تھے۔ پہلے اندرون سندھ رہا کرتے۔ 70 کی دھائی کے آواخر میں کراچی آ بسے اور ہمارے محلے میں مقیم ہوئے اور پھر نجو بھائی کی شخصیت کے جوہر کھلے۔ نجو بھائی کی ہمارے چچازاد بھائی سے خوب بنتی تھی۔ نجو بھائی ان کو کو بہت عزیز و قریب جانتے۔ مجھے تو خیر نجو بھائی احمق یا مسخرہ تصور کرتے اور کوشش کرتے کہ میں ان کے پاس نہ ہی ہوں لہکن بھائی میں کیوں نہ ہوں؟ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے۔ چچازاد ان کی غیر موجودگی میں تو خوب ہنستا لیکن سامنے مودب بنا اور ہر بات پر جی نجو بھائی کی رٹ لگائے رکھتا۔ اس کی ساری دل چسپی نجو بھائی کی ہنڈا سیون ٹی موٹر سائیکل میں تھی جسے نجو بھائی چلانے کے لیے کبھی کبھی دے دیا کرتے تھے۔

نجو بھائی کی تعلیم سے متعلق تو علم نہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ ان کے پاس ہر قسم کی گفتگو کی........

© Daily Urdu