Bachpan Ki Eid Bhi Kya Eid Thi
بچپن کی عید بھی کیا عید تھی
ساری زندگی کراچی میں گزری۔ ہر تہوار یہیں منایا۔ ایک دو بار ملک سے باہر عید منائی تو وطن سے دوری اور غربت کا احساس ہوا، کبھی آنکھیں نم ہوئیں تو کبھی دل نے کہا کس نے کہا تھا آنے کو؟ اداسی سی اداسی تھی لیکن جب آپ کراچی کے باسی ہوں تو اداسی کیسی۔ کوئی بھی تہوار ہو لگتا ہے پورا شہر ایک دوسرے سے خوش ہے۔ یہاں آج بھی لوگ گلے ملتے ہیں تو گلے مٹاتے ہیں۔ دل ملاتے ہیں۔ کدورت کو محبت سے بدل دیتے ہیں کہ محبت کا کوئی بدل نہیں۔
بچپن میں والد صاحب کے ساتھ بازار جاتے اور کپڑے جوتے لے آتے۔ چاند رات کو گھر میں عجب خوشی کا سماں ہوتا۔ صبح نئے کپڑے پہن کر نماز عید پڑھنے جانے اور اس کے بعد عیدی ملنے کا شدت سے انتظار ہوتا۔ بچوں میں "کتنی عیدی ملی" کا مقابلہ ہوتا۔ پرانے محلے میں تھے تو تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ بہن بہت چھوٹی تھی۔ میں اور مجھ سے چھوٹا بھائی پھر بھی بڑے تھے۔ چھوٹا تو بہت چھوٹا تھا۔ ہم بھی جو والدین نے دلا دیا، خاموشی سے لے لیا، کبھی ضد نہ کی۔ ویسے بھی لڑکوں کا کیا ہے۔ سفید شلوار قمیض، پینٹ شرٹ اور جوتے۔ فیشن کی وبا نہ چلی تھی۔ برانڈڈ کا تو کوئی تصور ہی نہ تھا جو کچھ تھا ابا برانڈڈ تھا۔ اس لیے کہاں کا رونا دھونا۔ ویسے بھی تربیت کچھ ایسی نہ تھی کہ کسی کی حرص کرتے۔ یہ تربیت آج تک کام آ رہی ہے اور ہم اپنے والدین کو دعائیں دیتے........
