menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hum Rawaiya Dekhte Hain, Wajah Nahi

27 0
27.10.2026

ہم رویہ دیکھتے ہیں، وجہ نہیں

ہم انسانوں کے رویے پڑھنے میں تو بہت جلدی کرتے ہیں، مگر ان رویوں کے پیچھے چھپی کہانی جاننے کے لیے ہمارے پاس اکثر وقت ہی نہیں ہوتا۔ ہم کسی کی خاموشی کو غرور، انکار کو ضد، تھکن کو بے صبری اور اختلاف کو بدتمیزی کا نام دے دیتے ہیں۔ لیکن کبھی ٹھہر کر یہ نہیں سوچتے کہ آخر وہ شخص ایسا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیوں ہوا؟ اس کے اندر کیا چل رہا ہے؟ وہ کن حالات سے گزر رہا ہے اور اس کے اس ایک عمل تک پہنچنے کے پیچھے کتنی ان کہی باتیں موجود ہیں؟

شاید انسانوں کو سمجھنے میں ہماری سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ ہم ان کے ظاہر کو دیکھ کر ان کے باطن کے بارے میں فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ ایک شخص جو ہمیشہ دوسروں کی بات مانتا رہا ہو، اگر ایک دن اپنی مرضی کا اظہار کر دے تو اسے ضدی کہا جانے لگتا ہے۔ جو ہمیشہ دوسروں کے لیے وقت نکالتا رہا ہو، اگر کبھی اپنی ضرورت کو اہمیت دے دے تو اسے خود غرض سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو ہر اختلاف پر خاموشی اختیار کرتا رہا ہو، اگر ایک دن اپنی تکلیف بیان کر دے تو کہا جاتا ہے کہ اس میں برداشت نہیں رہی۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس خاموشی کے پیچھے چھپی تھکن کو سمجھنے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جو شخص آج اپنی بات پر قائم ہے، وہ اس سے پہلے کتنی مرتبہ اپنی خواہشات کو قربان کر چکا ہوا؟ جس انسان کو ہم آج بے صبر کہہ رہے ہیں، ممکن ہے وہ لمبے عرصے سے صبر کرتے کرتے تھک چکا ہو۔

نفسیات بھی ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کسی انسان کے رویے کو سمجھنے کے لیے صرف اس کا عمل دیکھنا کافی نہیں، اس کے حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ سماجی نفسیات میں ایک تصور کہلاتا ہے۔ اس سے مراد وہ رجحان ہے جس میں ہم دوسروں کے رویوں کی وضاحت کرتے ہوئے ان کی شخصیت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جبکہ ان حالات کو کم اہمیت دیتے ہیں جن میں انہوں نے وہ رویہ اختیار........

© Daily Urdu