Deen Sambhal Lein, Dunya Khud Sambhal Jaye Gi
دین سنبھال لیں، دنیا خود سنبھل جائے گی
چند روز پہلے میری والدہ سے ایک دلچسپ گفتگو ہوئی۔ وہ بڑی محبت سے کہنے لگیں، "بیٹا! دین رکھنا آسان ہے، دنیا رکھنا مشکل ہے"۔ میں نے ان کی بات احترام سے سنی، لیکن یہ جملہ میرے ذہن میں دیر تک گردش کرتا رہا۔ میں سوچتی رہی، کیا واقعی دین اور دنیا دو الگ راستے ہیں؟ کیا ایک کو اختیار کرنے کے لیے دوسرے کو چھوڑنا ضروری ہے؟ پھر میں نے قرآن و سنت کی تعلیمات پر غور کیا، اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھا، اپنی زندگی کے تجربات پر نظر ڈالی۔
جن میں میں نے صرف اپنا دین سبھال اور دنیا خود سنبھل گئی اور مجھے محسوس ہوا کہ شاید دنیا کو سنبھالنے کا سب سے مضبوط راستہ ہی دین ہے۔
اس دن میں نے اپنی والدہ سے عرض کیا، "اگر ہم دین سنبھال لیں تو دنیا خود ہی سنبھلنے لگتی ہے"۔
یہ جملہ صرف ایک خیال نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے زندگی کا ایک بڑا سبق چھپا ہوا تھا۔
ہم سب ایک اچھی زندگی چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے رشتوں میں محبت ہو، دل میں سکون ہو، لوگ ہم پر اعتماد کریں، ہمارے کردار میں وقار ہو اور ہم مشکلات کا سامنا بھی حوصلے سے کر سکیں۔ ان سب چیزوں کے لیے ہم........
