Aik Ajeeb Qabristan
رات کا وقت ہے، ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا ہے، چاند آسمان پر ہے، لیکن وہ بادلوں میں چھپتا جا رہا ہے۔
میں ایک قبرستان میں کھڑا ہوں۔ یہاں پر بہت ساری قبریں ہیں اور ہر قبر کے اوپر اس کا کتبہ ہے اور ہر ایک پر کچھ نہ کچھ لکھا ہوا ہے۔ تو مجھے پہلے ڈر لگا کہ میں کیوں ایک قبرستان میں کھڑا ہوں جہاں بہت ساری قبریں ہیں اور بہت سارے ڈراؤنے خیالات ذہن میں آنے لگے۔
لیکن میں پھر آہستہ آہستہ، ڈرتے ڈرتے ایک قبر کے پاس گیا اور اس کے کتبے کو پڑھنے کی کوشش کی۔ جب میں ایک قبر کے ٹومب اسٹون کو پڑھ رہا تھا تو ایک دم سے محسوس ہوا کہ میرے پیچھے کوئی چیز آ کر کھڑی ہوگئی ہے۔
میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک بہت ہی سفید رنگ کی کوئی چیز تھی، انسانی جسم جیسی اور شکل بھی تھی اور وہ مجھے کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی۔
جب وہ کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی تو اس کی آواز یا الفاظ جیسے آپس میں الجھ رہے تھے، سمجھ نہیں آ رہے تھے۔ جب وہ چیز کچھ کہنے لگی تو میں ڈر گیا، میں زمین پر گر گیا۔
لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ میں ایک دم سے تھوڑی دیر کے لیے بے ہوش سا ہوگیا۔ پھر جب میری آنکھ کھلی تو وہ چیز جا چکی تھی اور مجھے بالکل سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ مجھ سے کیا کہنے کی کوشش کر رہی تھی۔
میں کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا اور پھر میں نے دوبارہ قبروں کے کتبے پڑھنا شروع کیے۔ پھر میں نے ایک قبر کو پڑھا۔ اس قبر میں کوئی انسان نہیں تھا۔ کسی انسان کو دفنایا نہیں گیا تھا۔ اس کے کتبے پر لکھا تھا: "میرا خواب"۔
میرا ڈاکٹر بننے کا خواب اور پھر اس کے نیچے بھی لکھا تھا کہ 1985 سے 2005 تک یہ خواب اس کے دل میں رہا۔ بیس سال تک وہ انسان اپنے اس خواب کو دباتا رہا، کیونکہ وہ کچھ اور بن گیا۔
تو میں اس کے بعد دوسری قبر پر گیا۔ اس کے کتبے پر لکھا........
