menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Mustaqbil Hijrat Kar Jaye

16 0
17.07.2026

جب مستقبل ہجرت کر جائے

شعبدہ بازوں کے اس شہر میں جب بھی حبِ الوطنی کے نعروں کی گونج تیز ہوتی ہے، مجھے جرمن فلسفی مارٹن ہائیڈیگر کا وہ جملہ یاد آ جاتا ہے کہ "بے وطنی جدید انسان کی تقدیر بنتی جا رہی ہے"۔ لیکن ہمارے ہاں یہ بے وطنی کسی مابعد الطبیعاتی المیے کا شاخسانہ نہیں، بلکہ ایک جیتے جاگتے، سفاک معاشرتی ڈھانچے کا پیدا کردہ بحران ہے۔ یہ جو ہر روز ہمارے ہوائی اڈوں پر ملکی تاریخ کا سب سے بڑا برین ڈرین ہو رہا ہے، یہ محض زیادہ تنخواہ، اچھے بنگلے یا مراعات کی مہم جوئی نہیں ہے۔

یہ دراصل ایک ایسے عمرانی معاہدے کی تلاش ہے جہاں محنت کو اس کا جائز صلہ مل سکے۔ یہ پیاس ہے اس نظام کی جس کا خواب تھامس ہابس سے لے کر جان لاک تک نے دکھایا تھا، جہاں قانون کی نظر میں شاہ و گدا برابر ہوں اور فرد کا احساسِ تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہو۔ جون ایلیا نے شاید اسی کیفیت کا نقشہ کھینچا تھا:

عجب اک شور ہے برپا، وطن کی یاد آتی ہے ہمیں ہجرت کی اس رُت میں خدا یاد آ رہا ہے

آج کا پاکستانی نوجوان جب کسی یونیورسٹی کی مہنگی ڈگری ہاتھ میں لیے ملازمت کے بازار میں نکلتا ہے، تو اسے میرٹ کی بجائے سفارش، محدود مواقع اور سیاسی اشرافیہ کی سنگدلانہ بے حسی کی دیوارِ قہقہہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فرانسیسی ماہرِ عمرانیات پیئر بورڈیو نے ثقافتی سرمائے کا جو نظریہ پیش کیا تھا، وہ آج ہمارے نظام پر حرف بہ حرف........

© Daily Urdu