Andhere Ko Kosne Ki Bajaye Aik Chiragh Jalayen
اندھیرے کو کوسنے کی بجائے ایک چراغ جلائیں
دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ہر مسئلہ پر رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں، چھوٹی سی بات کو رائی کا پہاڑ بنا لیتے ہیں، کرتے کچھ نہیں ہیں بس بیٹھ کر حالات و واقعات کو کوستے رہتے ہیں، ہر معاملے میں دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں جب کہ دوسری قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو مشکل پڑنے پر اپنے حواس پر قابو رکھتے ہیں، نامساعد حالات کے باوجود کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ اپنی اسی عادت کی وجہ سے یہ لوگ نہ صرف خود کامیاب ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنتے ہیں۔
تاریخ اُنہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اندھیرے کا سینہ چیر کر روشنی و امید کی کرن بنتے ہیں۔ ایک قدیم چینی کہاوت ہے کہ "اندھیرے کو کوسنے کی بجائے امید کا ایک چراغ جلا دیا جائے"۔
یہ محض ایک جملہ نہیں ہے بلکہ اِس میں زندگی گزارنے کا ایک انتہائی قیمتی راز پوشیدہ ہے۔ جو ہمیں سکھاتا ہے کہ شکایت کرنے سے، پریشان ہونے سے، گھبرانے سے، مسائل کا ذمہ دار کسی اور ٹھہرانے سے یا کسی اور کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اس سب کی بجائے ہمیں خود ہمت کرنی چاہیے، اپنے اور دوسروں کے لیے راستے تلاش کرنے چاہیے، کسی کے انتطار میں بیٹھنے کی بجائے اپنے زورِ بازو پر یقین رکھنا چاہیے اور محنت کرنی چاہیے۔
قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ "بے شک اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ........
