Kasb e Kamal Kun: Dadi Bhaagan
کسبِ کمال کُن: دادی بھاگاں
كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!
(ہنر اور قابليت حاصل كرو تاكه تم دنيا مين عزت اور قدر پا سكو، ميرے عزيز! ہنر يا قابليت کی بغير انسان كى كوئى وقعت يا قيمت نہیں ہوتى)۔
دادی بھاگاں، ایک ایسا نام جو زبان سے ادا ہو تو دل کے کسی نرم گوشے سے خوشبو اُٹھتی ہے۔ مٹی میں پسینے کی خوشبو، دھوپ میں چمکتے لوٹے کا عکس اور تہجد کی اذان کے ساتھ گونجتی کسی بے آواز دعا کی حرارت۔ دادی بھاگاں ہمارے گھر کی نہیں، ہمارے پورے عہد کی علامت تھیں۔ ایک ایسی خاتون جو اگر وقت کی مشین میں بٹھا کر آج کے زمانے میں لائی جائے تو انسان حیران رہ جائے کہ کیا یہ ممکن ہے؟ کہ ایک ان پڑھ عورت اتنی سمجھدار، اتنی باوقار، اتنی صاحبِ حکمت ہو سکتی ہے؟ مگر ہاں، وہ تھی۔
جب ہم نے ہوش سنبھالا تو دادی ہمیشہ مٹی کے لوٹے کے ساتھ دکھائی دیتیں۔ کبھی سر پر اُٹھائے کھیتوں کو جاتی ہوئی، کبھی کسی درخت کی چھاؤں میں اسے چھپا کر رکھتی ہوئی۔ دادی کا یہ چھپا ہوا لوٹا محض پانی کا برتن نہیں تھا، یہ ان کی روحانی طہارت کی علامت تھا۔ وہ کہتیں، "وضو کا پانی پاک ہونا چاہیے، اس پر کسی کا ہاتھ نہ لگے، کسی کا منہ نہ چھوئے" اور ہم شرارتی بچوں کو یہی چیلنج سب سے دلچسپ لگتا۔ ہم چھپ کر وہ لوٹا ڈھونڈ نکالتے، چپکے سے اس میں سے پانی پی لیتے اور پھر اعلان کرتے، "دادی! ہم نے آپ کے لوٹے سے پانی پی لیا!" دادی کا چہرہ سرخ ہو جاتا، وہ ڈانٹنے لگتیں، لیکن اگلے ہی لمحے ان کی آواز نرم ہو جاتی۔ وہ کہتیں، "چلو، جتنا پی سکتے ہو پی لو، اب یہ پانی میرے کسی کام کا نہیں"۔ پھر نیا پانی........
