Ishtiharat Aur Brand Ka Jadu
اشتہارات اور برانڈ کا جادو
ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں انسان صرف چیزیں خریدتا نہیں، بلکہ چیزیں اسے خریدنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ بازار صرف ہماری ضرورتیں پوری کرنے کی جگہ نہیں رہا، بلکہ ہماری خواہشات پیدا کرنے کا ایک پورا نظام بن چکا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے رات آنکھ بند ہونے تک ہم کسی نہ کسی اشتہار، کسی دلکش تصویر، کسی مشہور نام یا کسی نئے نمونے کی دعوت سے دوچار ہوتے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کون سا لباس ہمیں زیادہ باوقار دکھائے گا، کون سا گھرانہ زیادہ خوش حال ہے، کون سا موبائل زیادہ جدید انسان کی علامت ہے، کون سی گاڑی ہماری شخصیت کو دوسروں سے ممتاز کرے گی اور کون سی چیز ہمارے معیارِ زندگی کو بلند کر دے گی۔ اس سارے کھیل میں ایک لفظ سب سے زیادہ طاقتور بن کر ہمارے سامنے آتا ہے: "نیا"۔ جدید معاشروں میں کسی چیز کے معیار، خوبی، کمال یا اچھائی بیان کرنے کے لیے "نیا" کا لفظ اس کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے کہ رفتہ رفتہ ہمارے ذہن نے نیا اور اچھا کو ایک ہی معنی کا حامل سمجھ لیا ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی فرصت ہی نہیں ملتی کہ جو چیز نئی ہے، وہ اچھی بھی ہے یا نہیں، ہمیں صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ نئی ہے، اس لیے اسے حاصل کرنا ضروری ہے۔ یوں "نیا" ایک وصف سے بڑھ کر ایک دلیل بن جاتا ہے، حالانکہ عقل کی دنیا میں محض نیا ہونا کسی چیز کے اچھا ہونے کی دلیل نہیں۔
یہاں سے صارفیت کا وہ چکر شروع ہوتا ہے جس میں انسان ضرورت کے بجائے خواہش کے تابع ہو جاتا ہے۔ ایک چیز ہمارے پاس موجود ہے، پوری طرح قابلِ استعمال ہے، ہماری ضرورت پوری کر رہی ہے، مگر اچانک بازار ہمیں بتاتا ہے کہ اس کا نیا نمونہ آ گیا ہے۔ نیا نمونہ آتے ہی پرانی چیز اچانک پرانی، معمولی اور کمتر دکھائی دینے لگتی ہے۔ چند دن پہلے جس چیز کو ہم بہترین سمجھ رہے تھے، وہ اب ہمیں شرمندہ کرنے لگتی ہے۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اگر ہم نے نئی چیز نہ خریدی تو شاید ہم زمانے سے پیچھے رہ جائیں گے۔ چنانچہ ہم پرانی چیز چھوڑ کر نئی خریدتے ہیں۔ کچھ عرصہ گزرتا ہے، نئی چیز بھی پرانی ہو جاتی ہے اور پھر ایک اور نئی چیز........
