menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Imam Ghazali: Aqal, Dil Aur Rooh Ke Sangam Ka Mujadid

19 0
27.05.2026

امام غزالی: عقل، دل اور روح کے سنگم کا مجدد

اگر دنیا کی فکری تاریخ میں کچھ ایسے چراغ ہیں جنہوں نے اندھیروں میں ایک ایسی روشنی بکھیری جو صدیوں تک بجھ نہ سکی، تو ان میں امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ محض ایک عالم دین، فلسفی یا صوفی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک فکری انقلاب تھے۔ ایک ایسا نقطہ جہاں عقل رک کر دل کی طرف جھکی اور دل عقل کی روشنی میں بلند ہوا۔ ان کا دور انتشار، فکری انجماد، باطنی و ظاہری کشمکش، مذہب و فلسفے کے تصادم اور علم و تصوف کے الجھے دھاگوں سے بھرا ہوا تھا۔ مگر امام غزالی ان سب الجھنوں کو سلجھاتے گئے، یہاں تک کہ وہ امت کی فکری تاریخ میں "حجۃ الاسلام" کے لقب سے مشہور ہو گئے۔

ان کی زندگی کی ابتدا ایک متوسط گھرانے میں ہوئی، ایران کے شہر طوس میں۔ والد کا سایہ بچپن ہی میں اٹھ گیا۔ ماں نے اپنے بیٹوں کی تربیت کے لیے ہر ممکن قربانی دی۔ علم کا شوق ایسا تھا کہ فقر و فاقہ بھی رکاوٹ نہ بن سکے۔ امام غزالی نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے کے مشہور علما سے حاصل کی اور پھر نیشاپور کا رُخ کیا، جہاں امام الجوینی جیسے عظیم استاد کی صحبت ملی، جنہیں "امام الحرمین" کہا جاتا تھا۔ یہاں منطق، فقہ، کلام، فلسفہ اور دیگر علوم کی وہ آگہی ملی جس نے غزالی کو ایک ایسا عالم بنا دیا جو جلد ہی وقت کے علمی افق پر چھا گیا۔

ان کی فکری عظمت کا ایک اہم مرحلہ بغداد میں نمودار ہوا، جب نظام الملک نے انہیں نظامیہ مدرسے کا صدر مدرس مقرر کیا۔ یہ مدرسہ اس زمانے کی جامعہ آکسفورڈ یا جامعہ ہارورڈ سے کم نہ تھا۔ امام غزالی کی تدریس، مناظرے، تحریر اور علم کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا۔ وہ صرف علما کے نہیں، سلاطین کے........

© Daily Urdu