Federalist Number 84, Azadi Aur Bunyadi Huqooq
فیڈرلسٹ نمبر 84، آزادی اور بنیادی حقوق
فیڈرلسٹ مضامین کے سلسلے میں فیڈرلسٹ نمبر 84 ایک منفرد اور غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مضمون الیگزینڈر ہیملٹن نے تحریر کیا اور اس میں انہوں نے ایک ایسے سوال کا جواب دینے کی کوشش کی جو نئے امریکی آئین کے مخالفین کی جانب سے بار بار اٹھایا جا رہا تھا۔ اعتراض یہ تھا کہ مجوزہ آئین میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا کوئی واضح منشور شامل نہیں۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اگر آزادیِ اظہار، مذہبی آزادی، منصفانہ سماعت اور دیگر بنیادی حقوق کو آئین میں صراحت کے ساتھ درج نہ کیا گیا تو وفاقی حکومت مستقبل میں ان حقوق کو پامال کر سکتی ہے۔ بظاہر یہ اعتراض نہایت مضبوط محسوس ہوتا تھا، لیکن ہیملٹن نے ایک ایسا استدلال پیش کیا جو سیاسی فکر کی تاریخ میں آج بھی بحث کا موضوع ہے۔ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ نئے آئین میں حقوق کے علیحدہ منشور کی عدم موجودگی دراصل کوئی خامی نہیں بلکہ بعض پہلوؤں سے ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ ان کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں تھا کہ حقوق کا ذکر کیا گیا ہے یا نہیں، بلکہ یہ تھا کہ حکومت کو اختیارات کس حد تک دیے گئے ہیں اور وہ کن حدود میں کام کر سکتی ہے۔
ہیملٹن کی دلیل کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ امریکی آئین ایک محدود اختیارات رکھنے والی حکومت قائم کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت کو کوئی اختیار دیا ہی نہیں گیا تو پھر اس اختیار کے غلط استعمال کا خطرہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر آئین وفاقی حکومت کو اخبارات پر پابندی لگانے کا اختیار نہیں دیتا تو پھر آزادیِ صحافت کے تحفظ کے لیے الگ سے یہ لکھنے کی کیا ضرورت ہے کہ حکومت اخبارات پر پابندی نہیں لگا........
